مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے تہران میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں اصل مذاکرات پر استوار ہے باہمی احترام اور دیگر شرائط فراہم ہونے کی صورت میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں۔ ایرانی صدر نے ایرانی کرنسی میں گراوٹ اور امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے بیان کے بارے میں العالم کے نامہ نگار کی طرف سے پوچھے کئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی ریال کی قیمت میں گراوٹ کے پیچھے دلالوں اور سٹے بازوں کا ہاتھ ہے جنھیں ایران کی اینٹیلیجنس نے پہچان لیا ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی لیکن اقتصادی پابندیوں کا اس سے کوئي تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی پابندیاں گذشتہ 33 برسوں سے جاری ہیں اور ایران نے انہی پابندیوں کے سائے میں علم و دانش کے ہر شعبہ میں پیشرفت اور ترقی حاصل کی ہے۔ ایرانی صدر نے منافقین کو دہشت گردوں کی لسٹ سے خارج کرنے کے امریکی اقدام کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ منافقین کو ہمیشہ امریکہ کی حمایت حاصل رہی ہے اور کچھ عرصہ کے لئے امریکہ نے انھیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا تھا اور اب امریکہ منافقین کو ایران کے خلاف کھل کر استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ دنیا میں دہشت گردوں کا سب سے بڑا حامی ملک ہے اور منافقین کو دہشت گردوں کی لسٹ سے خارج کرکے امریکہ نے اس کا عملی ثبوت پیش کیا ہے ۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور دیگر شرائط فراہم ہونے کی صورت میں مذاکرات کو ممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اپنے ملکی اور قومی مفادات سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹے گا انھوں نے کہا کہ ایران پرامن ایٹمی پروگرام کا سفر جاری رکھےگا انھوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری رہے گا۔
صدر احمدی نژاد
امریکہ کےساتھ باہمی احترام اورشرائط مہیا ہونےکی صورت میں مذاکرات ممکن
مہر نیوز/ 2 اکتوبر2012ء: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد تہران میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں اصل مذاکرات پر استوار ہے باہمی احترام اور دیگر شرائط فراہم ہونے کی صورت میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں۔
News ID 1710803
آپ کا تبصرہ