مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹی وی پرامریکی سی آئی اے کے گرفتار شدہ جاسوس امیر میرازی حکمتی نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے نے2001 ء میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ امیر مرزای حکمتی نے اعتراف کیا کہ اس نے امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے تربیت حاصل کی اور عراق اور افغانستان میں فوجی اڈوں پر وقت گزارا ۔ اس نے کہا کہ اسے ایرانی انٹیلی جنس کو غلط معلومات فراہم کرنے کے لئے ایران بھیجاگیا۔ امریکی سی آئی اےنے کہا کہ اگر تم اس مشن میں کامیاب ہوگئے تو ہم تجھے مزیدتربیت دے سکتے ہیں اور دیگر مشن پر بھیج سکتے ہیں۔ حکمتی کا کہنا ہے کہ وہ بگرام میں ایک جاسوسی کے مرکز پر رہا وہاں سے دبئی گیا اور دبئی سے ایران پہنچا۔ حکمتی کے مطابق وہ امریکی ریاست ایریزونا میں پیدا ہوا اور اس نے2001 میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔اس نے 2005سے2007تک امریکی سائبر انٹیلی جنس میں بھی کام کرنے کا دعویٰ کیا۔ایرانی حکام کے مطابق اس نے مشرق وسطی کی زبانوں کو سیکھنے کیلئے خصوصی کلاسیں لیں۔ایرانی حکام کے مطابق 15سے زائد افراد کوواشنگٹن اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ ایرانی اینٹیلیجنس نے امریکہ کے اس اہم جاسوس کو گرفتارکرکے امریکہ کے ایک اہ ممنصوبہ کو ناکام بنادیا ہے۔
مہر نیوز-19دسمبر 2011ء: اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹی وی پرامریکی سی آئی اے کے جاسوس نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے نے2001 ء میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔
News ID 1488018
آپ کا تبصرہ