مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہیٹی کی ایک وزیر نے کہا ہے کہ صرف دارالحکومت پورٹ او پرنس میں ہلاک ہونے والوں کی مصدقہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ہیٹی کی مواصلات کی وزیر میری لارنس جوسلین لاسیگیو کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد سرکاری کمپنی سی این ای کی طرف سے دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح سے جمع کی جانے والی لاشوں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ دارالحکومت پورٹ او پرنس اور جکمال اور لیو گین سمیت ملک کے دیگر حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں اور ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
سرکاری طور پر زلزلے میں بچ جانے والوں کی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے اور زیادہ توجہ امدادی کاموں پر دی جا رہی ہے۔
ہیٹی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے تو یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بارہ جنوری کو آنے والا زلزلہ حالیہ سالوں میں آنے والی سب سے تباہ کن قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سات اعشاریہ صفر کی طاقت کے زلزلے میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ پندرہ لاکھ افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ بعض ذرائع نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ یہ تباہ کن زلزلہ امریکی ہتھیاروں کی آزمائش کے نتیجے میں رونما ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ