مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے ادارے کے تحقیق کار رچرڈ گولڈسٹون نے ان اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے سے متعلق تل ابیب پرتنقید سے بھری گولڈاسٹون رپورٹ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔
جج رچرڈ گولڈ سٹون نے کہا کہ اس وقت خطے میں امن کا کوئی عمل ہے ہی نہیں اور نہ ہی اسرائیل کے وزیرِ خارجہ چاہتے ہیں کہ ایسا کوئی عمل وہاں ہو۔
گولڈ سٹون رپورٹ میں غزہ پر حملے کے دوران اسرائیل فوج کو جنگی جرائم میں ملوث ٹھہرایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کی توثیق اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کونسل نے بھی کر دی ہے، ۔
تاہم اسرائیل نے گولڈ سٹون رپورٹ کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا ہے جسے جج گولڈ سٹون نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ یہ الزام ’بے بنیاد اور مکمل طور پر غلط ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اسرائیل آخر امن کے کس عمل کی بات کر رہا ہے۔ خطے میں امن کا کونسا عمل جاری ہے؟ اصل بات تو یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ چاہتے ہی نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا کوئی عمل ہو۔
رپورٹ میں گولڈ سٹون نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل ان جنگی جرائم کے الزامات کی چھان بین نہیں کرتا تو معاملہ ہیگ کی بین الاقوامی کرمینل عدالت کے سپرد کر دیا جائے۔
آپ کا تبصرہ