خبر رساں ایجنسی مہر نے عالمی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ جنوری میں غزہ پر حملے میں شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر زیادتیاں ہوئیں، جن میں سے کچھ جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتی ہیں۔پچیس اسرائیلی فوجیوں نے ’بریکنگ دی سائلنس‘ نامی تنظیم کو بیانات ریکارڈ کروائے کہ فوج کے لڑائی کے لیے بنے ضوابط میں شہریوں اور جنگجوؤں میں تفریق نہیں کی جاتی۔ تنظیم اسرائیلی فوجیوں پر مشتمل ہے اور بیان دینے والے فوجیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ان کو ہدایت تھی کہ فلسطینیوں کا چاہے جتنا بھی جانی نقصان ہو اسرائیلی جانوں کا ضیاع نہیں ہونا چاہیے۔ ان فوجیوں نے بتایا کہ مشتبہ عمارتوں کی تلاشی کے دوران شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔لڑائی کے دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ کی لڑائی میں گیارہ سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق ان ہلاک والوں میں سے تین سو عام شہری تھے۔ ایک فلسطینی تنظیم کے مطابق نو سو شہری مارے گئے تھے۔
آپ کا تبصرہ