مہرخبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے تہران میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں سکیورٹی کونسل کی حالیہ قرارداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس غیر قانونی اور سیاسی قراردیااور کہا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے کے باہر مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوگيا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے کے علاوہ ایران کسی دوسرے ملک سے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات نہیں کرےگا۔
صدر نےکہا بعض بین الاقوامی چودھری جو ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایٹمی ایبجنسی کے باہر مذاکرات کی بات کررہے ہیں وہ غلط ہے کیونکہ مذاکرات کا دور ختم ہوچکا ہے لیکن ہم دنیا میں امن قائم کرنے ، بین الاقوامی اقتصاد اور دنیا کے مختف گوشوں میں بحران کو ختم کرنے کے سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ تعاون اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
صدر احمدی نژاد نےکہا : ایٹمی موضوع اب ایٹمی موضوع نہیں رہا۔انھوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایران کا ایٹمی موضوع سیاسی موضوع بن گيا ہے اور اس کو امریکہ نے غلط اطلاعات فراہم کرکےسیاسی بنایا ہے۔لیکن ہم نے پھر بھی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ بھر پور تعاون کرکے امریکی جھوٹ کا پردہ فاش کردیا ہے اور اب کسی مغربی ملک کے ساتھ ایٹمی موضو پر مذاکرات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ