مہرخبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یہ تومعلوم ہی ہے کہ امام حسین حضرت محمدمصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے نواسے،حضرت علی وفاطمہ کے بیٹے اورامام حسن کے بھائی تھے اورانہیں حضرات کو پنتن پاک کہاجاتاہے اورامام حسین پنجتن کے آخری فردہیں یہ ظاہرہے کہ آخرتک رہنے والے اورہردورسے گزرنے والے کے لیے اکتساب صفات حسنہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ،امام حسین 3/ شعبان 4 ہجری کوپیداہوکرسرورکائنات کی پرورش وپرداخت اورآغوش مادرمیں میں رہے اورکسب صفات کرتے رہے ، 28 / صفر 11 ہجری کوجب آنحضرت شہادت پاگئے اور 3 / جمادی الثانیہ کوماں کی برکتوں سے محروم ہوگئے توحضرت علی نے تعلیمات الہیہ اورصفات حسنہ سے بہرہ ورکیا، 21/ رمضان 40 ہجری کوآپ کی شہادت کے بعدامام حسن کے سرپرذمہ داری عائد ہوئی ،امام حسن ہرقسم کی استمدادواستعانت خاندانی اورفیضان باری میں برابرکے شریک رہے ، 28/ صفر 50 ہجری کوجب امام حسن شہیدہوگئے توامام حسین صفات حسنہ کے واحدمرکز بن گئے ،یہی وجہ ہے کہ آپ میں جملہ صفات حسنہ موجودتھے اورآپ کے طرزحیات میں محمدوعلی وفاطمہ اورحسن کاکردارنمایاں تھا اورآپ نے جوکچھ کیا قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا،کتب مقاتل میں ہے کہ کربلامیں حب امام حسین رخصت آخری کے لیے خیمہ میں تشریف لائے توجناب زینب نے فرمایاتھا کہ ائے خامس آل عباآج تمہاری جدائی کے تصورسے ایسامعلوم ہوتاہے کہ محمدمصطفی ،علی مرتضی، فاطمۃالزہراء، حسن مجتبی (علیہم السلام ) ہم سے جداہورہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ