مہرخبررساں ايجنسي كے نامہ نگار كي رپورٹ كے مطابق وزارت خارجہ كے ترجمان سيد محمد علي حسيني نے آج اپني ہفتہ وار پريس كانفرنس نامہ نگاروں سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ امريكي حكام كي طرف سے عراق كے معاملے ميں مذاكرات كي سركاري درخواست پر غور كيا جائے گا انھوں نے كہا ہے كہ اس سے قبل بھي امريكي اور عراقي حكام كي طرف سے اس قسم كے اظہارت سامنے آئے تھے جن كے بارے ميں ايران نے اپنا واضح موقف كا اعلان كيا تھا اور اب بھي اگر امريكہ كي طرف سے عراق كے سلسلے ميں سركاري درخواست ہوتي ہے تو اس پر غور كيا جائے گا ترجمان نے پيغمبر اعظم (ص) كے نام نامي اور اسم گرامي سے موسوم فوجي مشقوں كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ان مشقوں كا مقصد صرف ايران كي مسلح افواج كي دفاعي طاقت كو بہتربنانا ہے اور ان سے كسي ملك كو كوئي خطرہ نہيں ہے محمد علي حسيني نے ايران كے ايٹمي معاملے كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ يورپي تجويز ميں بہترين اصلي يہ ہے كہ گروپ 5+ 1 پيشگي شرط كے بغير مذاكرات كي ميز پر واپس آجائيں اور موجودہ طريقہ كار سے معاملہ مزيد پيچيدہ ہوجائے گا اور كسي مثبت نتيجے تك پہنچنا مشكل ہوجائے گا اور ايران اپنے قومي اور ملكي مفادات كے خلاف كسي بھي دباؤ كو تسليم نہيں كرےگا
وزارت خارجہ كے ترجمان
امريكہ كي طرف سے مذاكرات كے لئے سركاري درخواست پر غور كريں گے // صدام كے جرائم كے پيش نظر اسكي پھانسي كا حكم بہت معمولي ہے // عراقي صدر طالباني عنقريب تہران كا دورہ كريں گے
وزارت خارجہ كے ترجمان سيد محمد علي حسيني نے امريكي حكام كي طرف سے عراق كے معاملے ميں مذاكرات كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس سے قبل بھي امريكي اور عراقي حكام كي طرف سے اس قسم كے اظہارت سامنے آئے تھے جن كے بارے ميں ايران نے اپنا واضح موقف كا اعلان كيا تھا اور اب بھي اگر امريكہ كي طرف سے عراق كے سلسلے ميں سركاري درخواست ہوتي ہے تو اس پر غور كيا جائے گا
News ID 402708
آپ کا تبصرہ