17 مئی، 2026، 6:29 PM

اسلامی ممالک کا اتحاد، بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو محدود کر سکتا ہے، ایرانی صدر

اسلامی ممالک کا اتحاد، بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو محدود کر سکتا ہے، ایرانی صدر

ایرانی صدر نے جنگ بندی کے قیام اور اس کے استحکام کے لیے پاکستان، خصوصاً وزیرِاعظم پاکستان اور عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام میں مؤثر ثابت ہوں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی سے ملاقات کے دوران جنگ بندی کے قیام اور اس کے استحکام کے لیے پاکستان، خصوصاً وزیرِاعظم پاکستان اور عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام میں مؤثر ثابت ہوں گے۔

صدر پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں اعلیٰ عسکری قیادت، وزراء، طلبہ اور شہریوں کی شہادت کو ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات انسانی، قانونی اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر خلاف ہیں اور دنیا کا کوئی بھی باضمیر انسان انہیں قبول نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا اصل مقصد ایران میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنا اور اسلامی نظام کو کمزور کرنا تھا، تاہم دشمن ایرانی عوام کے اتحاد، وفاداری اور مزاحمت کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ ایرانی قوم نے مشکل حالات میں غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک اور نظام کے ساتھ بھرپور وابستگی دکھائی۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بعض دہشت گرد عناصر کو ایران کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی سرحدی علاقوں کے ذریعے داخل کرنے کی کوشش کی، تاکہ ملک کے اندر بدامنی پھیلائی جا سکے، تاہم پاکستان، افغانستان اور عراق نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے سے روک کر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، جس پر ایران ان ممالک کا شکر گزار ہے۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے سرحدی تجارت اور اقتصادی تعاون کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول حالیہ حالات نے دونوں ممالک کو پہلے سے زیادہ قریب کر دیا ہے اور اب دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح تک لے جانے کا بہترین موقع موجود ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سائنسی، تعلیمی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور جدید سائنسی تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کی ترقی اور پائیدار پیش رفت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی ممالک کو اپنے مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی مشترکات کی بنیاد پر اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، کیونکہ امتِ مسلمہ کا اتحاد جتنا مضبوط ہوگا، بیرونی طاقتوں اور اسرائیل کی مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک، خصوصاً خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ دوستانہ، پائیدار اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلامی دنیا کے بڑے ممالک باہمی تعاون اور علاقائی روابط کو مضبوط بنائیں تو خطے میں پائیدار امن و سلامتی قائم کی جا سکتی ہے، کیونکہ اسلامی اتحاد کی موجودگی میں اسرائیل کبھی بھی مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی جرات نہیں کر سکے گا۔

اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ حالیہ علاقائی حالات نے واضح کر دیا ہے کہ مشکل وقت میں حقیقی دوست اور دشمن کون ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں اور حالیہ واقعات کے بعد یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی عوام ایران کے عوام کے لیے دلی احترام اور محبت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کے عزم کے تحت دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی امید رکھتے ہیں۔

News ID 1939327

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha