مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ پرتشدد ہنگاموں سے متعلق تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعات ابتدا میں احتجاج کی صورت میں شروع ہوئے، مگر ایک خاص مرحلے کے بعد یہ اسلامی جمہوری ایران کے خلاف نظام کی تبدیلی کی منظم کوشش میں تبدیل ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ حکام حالیہ بدامنی کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل اسباب کی نشاندہی کی جاسکے اور اندرونی کمزوریوں کی اصلاح کی جاسکے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے کس ملک میں احتجاج کے دوران ایمبولینسوں، امدادی گاڑیوں اور فائر بریگیڈ پر حملے کیے جاتے ہیں یا پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ان کے نزدیک ایسے واقعات کی روک تھام، بعد میں مجرموں سے نمٹنے سے کہیں زیادہ اہم ہے، اور معاشرے میں ذہنی صحت اور سماجی بے ترتیبی کا علاج مہنگے طبی اقدامات، حتی کہ سرجری سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
انہوں نے تناؤ میں کمی، تشدد کی روک تھام اور سماجی تقسیم کو گہرا ہونے سے بچانے والے ہر اقدام کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں، جس کے لیے ملکی صحت کے تمام وسائل بروئے کار لانا ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ