آنحضور (ص) نے ولادت کے بعد آسمان كي طرف سربلندكركے لاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاري كيا

پيغمبر اسلام (ص) كي ولادت باسعادت كے وقت حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے جن میں ساوہ كے دريا کا خشك ہونا اور شام میں ہزار سال سے خشک پڑی وادی سماوہ میں پانی جاری ہونا، ايوان كسري كے 14 كنگروں کا ٹوٹنا اور فارس کی ایک ہزار سال سے روشن آگ کا خاموش ہوجانا شامل ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پيغمبر اسلام (ص) كي ولادت باسعادت كے وقت حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے جن میں ساوہ كے دريا کا خشك ہونا اور شام میں ہزار سال سے خشک پڑی وادی سماوہ میں پانی جاری ہونا، ايوان كسري كے 14 كنگروں کا ٹوٹنا اور فارس کی ایک ہزار سال سے روشن آگ کا خاموش ہوجانا شامل ہیں۔

پيغمبر اسلام (ص) كي ولادت كے وقت آپ كے جسم مبارك سے ايك ايسانورساطع ہوا، جس سے ساري دنياروشن ہوگئي، آپ (ص) نے پيداہوتے ہي دونوں ہاتھوں كوزمين پرٹيك كرسجدہ خالق اداكيا، پھرآسمان كي طرف سربلندكركے تكبير كہي اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاري كيا۔

علامہ مجلسي عليہ الرحمہ کا کہنا ہے كہ علماء اماميہ كااس پراجماع واتفاق ہے كہ آپ 17 ربيع الاول 1 عام الفيل يوم جمعہ بوقت شب يابوقت صبح صادق" شعب ابي طالب" ميں پيدا ہوئے، اس وقت انوشيرواں كسري كي حكومت كابياليسواں سال تھا بعض مسلمان 2 ربيع الاول بعض 6 ربيع الاول اكثراہلسنت 12 ربيع الاول  1 عام الفيل مطابق 570 كوصحيح سمجھتے ہيں اورآپ كي ولادت سے متعلق بہت سے ايسے اموررونما ہوئے جوحيرت انگيزہيں مثلاآپ كي والدہ ماجدہ كوبارحمل محسوس نہيں ہوااوروہ ولادت كے وقت كثافتون سے پاك تھيں، آپ مختون اورناف بريدہ تھے آپ كے ظہورفرماتے ہي آپ كے جسم سے ايك ايسانورساطع ہواجس سے ساري دنياروشن ہوگئي، آپ نے پيداہوتے ہي دونوں ہاتھوں كوزمين پرٹيك كرسجدہ خالق اداكيا پھرآسمان كي طرف سربلندكركے تكبير كہي اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاري كيا، بروايت ابن واضح المتوفي 292 ھ شيطان كورجم كياگيااوراس كاآسمان پرجانابندہوگيا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے تمام دنياميں ايسازلزلہ آياكہ تمام دنياكے كنيسے اورديگر غيراللہ كي عبادت كرنے كے مقامات منہدم ہوگئے ، جادواوركہانت كے ماہراپني عقليں كھوبيٹھے اوران كے موكل محبوس ہوگئے ايسے ستارے آسمان پرنكل آئے جنہيں كسي نے كبھي نہ ديكھاتھا ساوہ كا دريا خشك ہوگيا وادي سماوہ جوشام ميں ہے اورہزارسال سے خشك پڑي تھي اس ميں پاني جاري ہوگيا، دجلہ ميں اس قدرطغياني ہوئي كہ اس كاپاني تمام علاقوں ميں پھيل گيا كاخ كسري ميں پاني بھر گيااورايسازلزلہ آياكہ ايوان كسري كے 14 كنگرے زمين پرگرپڑے اورطاق كسري شگافتہ ہوگيا، اورفارس كي وہ آگ جوايك ہزارسال سے مسلسل روشن تھي، فورابجھ گئي۔  

اسي رات كوفارس كے عظيم عالم نے جسے (موبذان موبذ)كہتے تھے، خواب ميں ديكھاكہ تندوسركش اوروحشي اونٹ، عربي گھوڑوں كوكھينچ رہے ہيں اورانہيں بلادفارس ميں متفرق كررہے ہيں، اس نے اس خواب كابادشاہ سے ذكركيا? بادشاہ نوشيرواں كسري نے ايك قاصدكے ذريعہ سے اپنے حيرہ كے گورنرنعمان بن منذركوكہلابھيجاكہ ہمارے عالم نے ايك عجيب وغريب خواب ديكھاہے توكسي ايسے عقلمنداور ہوشيار شخص كوميرے پاس بھيج دے جواس كي اطمينان بخش تعبيردے كر مجھے مطمئن كرسكے نعمان بن منذرنے عبدالمسيح بن عمرالغسافي كوجوبہت لائق تھابادشاہ كے پاس بھيج ديانوشيروان نے عبدالمسيح سے تمام واقعات بيان كئے اوراس سے تعبير كي خواہش كي اس نے بڑے غوروخوض كے بعد عرض كي”اے بادشاہ شام ميں ميراماموں ”سطيح كاہي“ رہتاہے وہ اس فن كابہت بڑاعالم ہے وہ صحيح جواب دے سكتاہے اوراس خواب كي تعبيربتاسكتاہے نوشيرواں نے عبدالمسيح كوحكم دياكہ فوراشام چلاجائے چنانچہ روانہ ہوكر دمشق پہنچااوربروابت ابن واضح ”باب جابيہ“ ميں اس سے اس وقت ملاجب كہ وہ عالم احتضارميں تھا، عبدالمسيح نے كان ميں چيخ كراپنامدعا بيان كيا? اس نے كہاكہ ايك عظيم ہستي دنياميں آچكي ہے جب نوشيرواں كي نسل كے 14 مردوزن حكمران كنگروں كے عدد كے مطابق حكومت كرچكيں گے تويہ ملك اس خاندان سے نكل جائے گا ثم” فاضت نفسہ“ يہ كہہ كر وہ مرگيا۔

آپ كے پيداہونے سے پہلے اوربروايتے آپ دوماہ كے بھي نہ ہونے پائے تھے كہ آپ كے والد " عبداللہ"  كاانتقال بمقام مدينہ ہوگياكيونكہ وہيں تجارت كےلئے گئے تھے انھوں نے سوائے پانچ اونٹ اورچند بھيڑوں اورايك حبشي كنيز بركت (ام ايمن) كے اوركچھ ورثہ ميں نہ چھوڑا۔ حضرت آمنہ كوحضرت عبداللہ كي وفات كااتناصدمہ ہواكہ دودھ خشك ہوگيا۔ چونكہ مكہ كي آب وہوابچوں كے چنداں موافق نہ تھي اس واسطے نواح كي بدوعورتوں ميں سے دودھ پلانے كے واسطے تلاش كي گئي اقوام بدوكي عادت تھي كہ سال ميں دومرتبہ بہاراورموسم خزاں ميں دودھ پلانے اوربچے پالنے كي نوكري كي تلاش ميں آياكرتي تھيں آخرحليمہ سعديہ كے نصيبہ نے زوركيا اوروہ آپ كواپنے گھرلے گئيں اورآپ حليمہ كے پاس پرورش پانے لگے۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) ولادت:

حضرت امام جعفر صادق (ع) بھی  ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ اللہ تعالی نے حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت کی تاریخ کو بڑی عزت و عظمت عطا کر رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایا: میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا۔)1(

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں۔ آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں (جلاء العیون ص ۲۶۵) ۔ آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔)2(

اسم گرامی ،کنیت ،القاب

 آپ کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابر، فاضل، طاہر وغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت (ص)نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفربن محمدکولقب صادق سے موسوم وملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا). 3(

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1(جنات الخلوج ص ۲۷) ۔

2(جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔

3(جلاء العیون ص ۲۶۵)

News Code 1908614

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 12 =