اراکین نے معاہدے کی حمایت نہ کی تو بریگزٹ کاعمل طویل ہوسکتا ہے، تھریسا مے

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے اراکین پارلیمنٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے معاہدے کی حمایت نہیں کی گئی تو بریگزٹ کاعمل طویل ہوسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے اراکین پارلیمنٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے معاہدے کی حمایت نہیں کی گئی تو بریگزٹ کاعمل طویل ہوسکتا ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف میں ایک مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یورپی یونین کونسل کے سربراہی اجلاس سے قبل اراکین پارلیمنٹ نے ان کے معاہدے کا ساتھ دیا تو یورپی یونین سے باہر آنے کے لیے 29 مارچ کے بعد ایک مختصر ٹیکنیکل توسیع ملے گی۔ تھریسامے نے اعتراف کیا کہ یہ ایک مثالی معاہدہ نہیں ہے، اگر بریگزٹ معمول کے مطابق مکمل ہوگیا تو برطانوی عوام اس کو قبول کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اراکین پارلیمنٹ نے معاہدے پر اتفاق نہیں کیا تو متبادل کے لیے اس وقت حالات مزید گھمبیر ہوں گے اور برطانیہ کو مئی میں ہونے والے یورپی یونین کے انتخابات میں بھی حصہ لینا پڑے گا۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین سے اخراج کے صرف تین سال بعد برطانوی عوام کو یورپی یونین کے انتخابات میں جانا مشکل سے تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کی مشترکہ سیاسی ناکامی کی علامت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو گزشتہ برس نومبر میں بریگزٹ معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد پارلیمنٹ کے اندر مسلسل شدید مشکلات کا سامنا ہے اور دو مرتبہ بریگزٹ معاہدے کے خلاف بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کی جاچکی ہے۔

News Code 1888953

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =