مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ساہیوال میں گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ واقعے میں دو خواتین سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے حکم پر واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ساہیوال فائرنگ پر زخمی بچے کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں میرے والدین، بہن اور والد کا دوست شامل ہیں۔
دوسری جانب فائرنگ سے مارے گئے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہماری فیملی پر فائرنگ کرکے میرے بھائی کو قتل کردیا ہے۔ جلیل نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی فائرنگ کے وقت گاڑی میں 4 بچے بھی سوارتھے، ان بچوں میں 14 سال کی اریبہ بھی تھی، جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔
خیال رہے کہ ساہیوال کے قریب ٹول پلازہ میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بارے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دہشت گرد تھے جبکہ زخمی بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات سے واقعہ مشکوک ہوگیا۔
آپ کا تبصرہ