مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہامریکی انتظامیہ نے اپني ايک رپورٹ ميں کہا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ اور تحريک طالبان پاکستان کے خلاف تو کارراوئياں کي ہيں، تاہم حقاني نيٹ ورک اور لشکر طيبہ کے خلاف کارروائی میں موثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ امريکہ نے دنيا بھر ميں دہشت گردي سے متعلق سال 2011 کي رپورٹ ميں کہا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ کے خلاف موثر کارروائیاں کیں جس کے باعث القاعدہ کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے لیکن یہ تنظیم ابھی بھی خطرہ ہے کیونکہ اس نے دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط قائم کر رکھے ہیں جیسے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک۔ رپورٹ کے مطابق پاکستاني فوج نے القاعدہ اور ديگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائياں کيں جس ميں پاکستاني فوج کو جاني نقصان بھي اٹھانا پڑا تاہم حقاني نيٹ ورک اور لشکر طيبہ کے خلاف پاکستاني فوج کي کارروائيوں ميں اتني شدت نہيں تھي. رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ افغانستان اور پاکستان ميں دہشت گرد عناصر کي موجودگي کي وجہ سے خدشات برقرار ہيں.رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنہ دو ہزار گیارہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ڈھائی ہزار سے زیادہ شہری اور چھ سو ساٹھ قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہلاک ہوئے۔
مہر نیوز/ 2 اگست /2012ء: امریکی انتظامیہ نے اپني ايک رپورٹ ميں کہا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ اور تحريک طالبان پاکستان کے خلاف تو کارراوئياں کي ہيں، تاہم حقاني نيٹ ورک اور لشکر طيبہ کے خلاف کارروائی میں موثر کردار ادا نہیں کر رہا۔
News ID 1663821
آپ کا تبصرہ