بحرین کے عوام مصر،تیونس ،لیبیا اور یمن کے عوام کا مطالبہ ایک ہی ہے

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بحرین کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بحرین کے عوام کی تحریک اور مصر ویمن و تیونس اور لیبیا کے عوام کی تحریکوں میں کوئی فرق نہیں ہے ان سب کی حقیقت و ماہیت ایک ہی ہےکیونکہ بحرین کے عوام بھی آزاد انتخابات میں اپنی رائے استعمال کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ مطالبہ حق بجانب ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مشہد مقدس میں لاکھوں زائرین سے اپنے خطاب میں علاقہ کے حالیہ واقعات اور تیونس ، مصر، بحرین، یمن اور لیبیا میں عوامی تحریکوں کے بارے میں جامع تحلیل اور تجزیہ پیش کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عربی و اسلامی علاقہ میں  عوامی تحریکوں کو بہت ہی اہم اور امت اسلامی کی اسلامی بیداری کا مظہرقراردیتے ہوئےفرمایا: عوامی تحریکوں میں دو اہم عنصر موجود ہیں ایک عوامی کی میدان میں مسلسل موجودگی اور دوسرے ان کی دینی اور اسلامی سمت میں حرکت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ظالم حکمرانوں کی جانب سےعوام کی عزت اور شان و شوکت کو مجروح کرنےکوعلاقہ میں عوامی تحریکوں کے آغاز کا اصلی  سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: مثال کے طور پر مصر میں حسنی مبارک نے اسرائیل کی نیابت میں سنگین جرائم کا ارتکاب کیا اور غزہ کے معاملے میں حسنی مبارک نے وہ کام کیا جو اسرائیل چاہتا تھا اور اسی طرح لیبیا میں قذافی نے مغربی ممالک کی کھوکھلی دھمکیوں اور معمولی وعدوں کے بعد اپنا ایٹمی پروگرام ان کے حوالےکردیا ، اور یہ ایسے اقدامات تھے جن کی بنا پر عوام کے دل زخمی اورمجروح ہوگئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں فرمایا: امریکہ کی سرپرستی میں مغربی ممالک کا ایران پر بھی دباؤ تھا اور ان کی جانب سے ایران کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں اور دھمکیوں کا سلسلہ اسی طرح اب بھی جاری ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے نہ صرف دھمکیوں کے مقابلے میں استقامت اور پائداری کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنے ایٹمی پروگرام کوبھی ہر سال وسعت اور ترقی بخشی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی واقعات کے بارے میں امریکی عمل اور مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ ابتداء میں ان واقعات کے بارے میں حیران اور متحیر تھا اور اس کے پاس ان واقعات کے بارے میں کوئی تحلیل اور تجزیہ نہیں تھا اور اسی وجہ سے اس نے متضاد اور متناقض پالیسی اورمؤقف اختیار کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ڈکٹیٹروں کی حمایت امریکہ کا مستقل مؤقف ہے امریکہ نے حسنی مبارک کا بھی آخری وقت تک دفاع کیا لیکن جب وہ متوجہ ہوگيا کہ اب اقتدار حسنی مبارک کے ہاتھ سے خارج ہوگیا ہے اور وہ بحران پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو امریکہ نے ردی کاغذ کی طرح اسے دور پھینک دیا اورامریکہ کے اس عمل سے ان حکمرانوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو اب بھی امریکہ سے وابستہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مصر کے ڈکٹیٹر کے زوال کو مشرق وسطی میں امریکی پالیسیوں پر مہلک ضرب قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ جب بن علی اور حسنی مبارک کو اقتدار میں باقی رکھنے سے مایوس ہوگیا تو اس نے موزیانہ اور خباثت پر مبنی سطحی کوشش کا آغاز کردیا تاکہ مصر و تیونس میں ڈکٹیٹروں کے نظام کی حفاظت کرسکے لیکن عوام کے قیام کے جاری رہنے کی وجہ سے امریکہ کا یہ مکر و فریب بھی ناکام ہوگیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکیوں نے اس فریب میں شکست کے بعد نیا فریب شروع کردیا جس میں انھوں نے عوامی انقلاب کو اغوا اور منحرف کرنے کی کوشش شروع کردی لیکن امریکہ کو اس فریب میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور دینی عوامی حکومت  میں علاقائی حوداث کے مانند حوادث پیدا کرنےکی امریکہ کی ناکام کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ نے اپنے حقیر عوامل و عناصر اور خواہشات نفسانی میں مبتلا افراد کے ذریعہ ایران میں مضحکہ خیز کارٹون بنانے کی تلاش و کوشش کی لیکن ایرانی عوام نے امریکہ کے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کیا اور امریکہ کو اس میں بھی شکست اٹھانا پڑی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی عوام کی تحریکوں کے بارے میں امریکی عمل کو منافقانہ قراردیا اور امریکی صدر کی طرف سے ایرانی عوام کی حمایت پر مبنی حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ امریکہ کے موجودہ  صدر جو کہتے ہیں وہ سمجھتے بھی ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں یا یہ کہ امریکی صدر کے ہوش و حواس ٹھیک نہیں ہیں امریکی صدر کہتے ہیں کہ تہران کے آزادی اسکوائر پر لوگ وہی ہیں جو مصر کے التحریر اسکوائر پر ہیں جبکہ ایرانی  عوام ہر سال 22 بہمن کو تہران کے آزادی اسکوائر پر جمع ہوتے ہیں اور ان کا اصلی نعرہ بھی امریکہ مردہ باد ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: قوموں کی حمایت کا امریکی دعوی بالکل جھوٹا ہے امریکہ نہ صرف دیگر قوموں پر ظلم کرتا ہے بلکہ وہ اپنی قوم پر بھی ظلم ڈھا رہا ہے کیونکہ امریکہ کے موجودہ صدر ، امریکہ کے بدترین اور بحرانی مالی شرائط کے باوجود کئی ارب ڈالر عوام کی جیب سے نکال کر ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کی جیب میں ڈال رہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقہ میں جاری عوامی تحریکوں کا تجزیہ پیش کیا اور لیبیا میں جاری عوامی تحریک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  اسلامی جمہوریہ ایران  لیبیا کے عوام کے قتل عام کے سلسلے میں لیبیا کی حکومت کی بھی مذمت کرتا ہے اور امریکی اور مغربی ممالک کے حملوں کی بھی سو فیصد اورشدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے لیبیا کے عوام کی حمایت پر مبنی امریکی دعوے کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر امریکہ حقیقت میں لیبیا کے عوام کا حامی ہے تو پھر اس نے ایک ماہ تک قذافی کے ہاتھوں لیبیا کے عوام کے قتل عام کا تماشا کیوں دیکھا اوراس نے ایک ماہ تک کچھ نہیں کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکہ اور مغربی طاقتیں لیبیا میں تیل کے پیچھے ہیں اور وہ یہاں پر اپنے پاؤں جمانے کی تلاش و کوشش میں ہیں تاکہ آئندہ مصر اور تیونس کی حکومتوں پر قریبی نظر رکھ سکیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے لیبیا کے معاملے میں اقوام متحدہ کے اقدام کو اس بین الاقوامی ادارے کے لئے باعث شرم اور ننگ قراردیتے ہوئے فرمایا: اقوام متحدہ کے ادارے کو قوموں کی خدمت کرنا چاہیے لیکن اس کے بجائے وہ امریکہ اور مغربی ممالک کا آلہ کار بن گیا ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بحرین کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بحرین کے عوام کی تحریک اور مصر ویمن و تیونس اور لیبیا کے عوام کی تحریکوں میں کوئی فرق نہیں ہے ان سب کی حقیقت و ماہیت ایک ہی ہےکیونکہ بحرین کے عوام بھی آزاد انتخابات میں اپنی رائے استعمال کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ مطالبہ حق بجانب ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سےبحرین کے مسئلہ کو شیعہ اور سنی مسئلہ قرار دینے اور اس مسئلہ کو علاقائی مسائل میں مداخلت کا بہانہ بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ تلاش کررہا ہے تاکہ بحرین کے مسئلہ کو شیعہ اور سنی مسئلہ قراردیکر بحرین کے عوام کی علاقائي سطح پر عوامی حمایت اور امداد کا سلسلہ بند کردیا جائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض افراد کے امریکی جال میں گرفتار ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: بحرین کے حوادث کو شیعہ اور سنی کے مسئلہ میں تبدیل کرنا امریکہ اور اسلام دشمن عناصر کی سب سے بڑی خدمت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے فلسطینی قوم بالخصوص غزہ کی 22 روزہ جنگ میں بھر پورحمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطینی قوم اور اسی طرح حالیہ عوامی تحریکوں میں تیونس ، مصر ، لیبیا اور یمن کے عوام کی بھر پور حمایت کی جبکہ وہ سنی ہیں شیعہ نہیں ہیں کیونکہ ان مسائل میں شیعہ اور سنی کی بحث نہیں ہے لہذا بحرین کے واقعات کے بارے میں اس چیز کو بہانہ بنا کر خاموش نہیں رہنا چاہیے کہ وہاں کے لوگ شیعہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سعودی عرب کی طرف سے بحرین کے معاملے میں مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اورعلاقہ میں اس کے نوکروں کی سب سے بڑی خیانت اور منافقت یہ ہے کہ وہ بحرین میں سعودی عرب کے فوجیوں اور ٹینکوں کی مداخلت کو جائز سمجھتے ہیں اور مراجع عظام، علماء اور بحرینی عوام کے حامیوں کے اعتراض کو مداخلت قراردیتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سعودی حکومت کی بحرین میں فوجی مداخلت کو بہت بڑی غلطی اور اشتباہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سعودی عرب کے اس اقدام سے علاقائی عوام کے دلوں میں سعودی عرب کے بارے میں شدید نفرت پیدا ہوجائے گی اور سعودی عرب کے لئے اس کے سنگین اور تباہ کن نتائج برآمد ہونگے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقہ میں جاری حالیہ واقعات کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں جو نئی حرکت شروع ہوئی ہے وہ اسلامی حرکت ہے اور اسلامی اہداف کی جانب گامزن ہے اور اللہ تعالی کے وعدے کے مطابق اس حرکت کو یقینی طور پر کامیابی حاصل ہوگی، اور علاقہ میں امریکہ کی شکست و ناکامی کا سلسلہ جاری رہےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ کے حالیہ واقعات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا مؤقف قوموں اور مظلوموں کی حمایت اور ڈکٹیٹروں اور ستمگر حکمرانوں کے بارے میں نفرت پر مبنی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے ایک حصہ میں  عید نوروز کو دینی احکام اور اسلامی دستورات کے نفاذ کا بہترین موقع قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی عوام نےکئی برسوں بالخصوص انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعدعید نوروز سے معنویت، معرفت اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے استفادہ کیا ہے، اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ لوگ تحویل سال کے موقع پر مقدس مقامات ، دینی مراکز، مسجدوں اور زیارتگاہوں پر حاضر ہوکر اللہ تعالی کی بارگاہ میں اجتماعی طور پردعا اور توسل کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے ہمیشہ ایسی تقریب اور سنت سے دین ، اسلام، معنویت اور اسلامی اخلاق کے حصول کے لئے استفادہ کیا ہے۔

News Code 1277571

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 12 =