بحرینی عوام کے ساتھ بحرینی وسعودی فوج کی رفتار صہیونیوں جیسی ہے

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے علاقائي ممالک میں عوامی مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ یکساں طور پر تیونس، مصر، لیبیا ، یمن اور بحرین کے انقلابیوں کی حمایت کرتا ہے آج مسئلہ شیعہ اور سنی کا مسئلہ نہیں بلکہ امریکہ نواز ڈکٹیٹروں ، منہ زور ، ظالم و جابر حکام کے ساتھ مقابلہ اور عوامی مطالبات منوانےکا مسئلہ ہے قذافی ، عبد اللہ صالح ، آل سعود و آل خلیقہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہےیہ سب امریکہ و سامراجی طاقتوں کے آلہ کار اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اپنے اہم خطاب میں عرب ممالک میں جاری عوامی تحریکوں کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان عرب عوام کے ساتھ ہے اور حزب اللہ امریکہ نواز عرب حکام سے ہمیشہ متنفر اور بیزار رہا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے علاقائي ممالک میں عوامی انقلابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ یکساں طور پر تیونس، مصر، لیبیا ، یمن اور بحرین کے انقلابیوں کی حمایت کرتا ہے آج مسئلہ شیعہ اور سنی کا مسئلہ نہیں بلکہ امریکہ نواز ڈکٹیٹروں اور منہ زور ، ظالم و جابر طاقتوں کے ساتھ مقابلہ اور عوامی مطالبات منوانےکا مسئلہ ہے انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام کے ساتھ عالمی سطح پر امتیازی سلوک کیا جارہا ہےجبکہ قذافی ، عبد اللہ صالح ، آل سعود و آل خلیقہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہےیہ سب امریکہ و سامراجی طاقتوں کے آلہ کار اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے علاقائی تحریکوں کے ساتھ عرب ممالک کی متضاد پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب یونین نے لیبیا پر نوفلائی زون قائم کرنے اور لیبیا پر حملہ کرنے کی امریکہ، فرانس ، برطانیہ کو دعوت دی جبکہ کرنل قذافی و یمن کے صدرعبد اللہ صالح کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور قذافی ، عبد اللہ صالح اور بحرین کے آل خلیفہ کے درمیان کوئي فرق نہیں ہے سب ڈکٹیٹر ہیں  لیبیا ، یمن اور بحرین میں ڈکٹیٹر حکام ، عوام کو قتل کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ بحرین میں مظاہرے پر امن ہورہے تھے، بحرین میں کسی ایک گاڑی کو نذر آتش نہیں گیا بحرین میں لوگ پرامن مظاہرے کررہے تھے بحرین میں کسی کا کوئی نقصان نہیں بہایا گیا لوگ صرف اصلاحات کا لوگ مطالبہ کررہے تھے  اپنے پامال شدہ حقوق کو بحال کرنے کا مطالبہ کررہے تھے پرامن مظاہرین کو کچلنا ڈکٹیٹروں کی طبیعت کا حصہ ہے لیکن بحرین کے عوام کی سب سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاررہی ہے بحرین میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور اکثریت کے حقوق پامال کئے جارہے ہیں انھوں نے کہا شیعہ اور سنی علماء کا فرض ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے آلہ کار حکام کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے عوام کی صحیح اور درست راہنمائی کریں مسئلہ شیعہ اور سنی کا مسئلہ نہیں ہے  مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہے اور اسلام کی حمایت تمام مسلمانوں کا فرض ہے اسلام ڈکٹیٹروں اور ظالم و جابر حکمرانوں کی حمایت سے منع کرتا ہے اسلام امریکہ اور اس کے حامیوں کی حمایت کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نےکہا کہ بحرین میں شیعوں کی اکثریت ہے لیکن ان کا حکومت میں کوئی حصہ نہیں ہے بحرین کی حکومت شیعہ اکثریت کے حقوق کو پامال کررہی ہے۔ انھوں نے کہا تیونس ، مصر، لیبیا ، یمن اور بحرین کے عوام کی تحریکوں میں کوئی فرق نہیں ہے تمام ممالک کے عوام اپنے حقوق اور اپنے مطالبات اور جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں سید حسن نصراللہ نے سعودی عرب کی طرف سے بحرین میں فوجی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک بحرین کے معاملے کو حل کرنے کے لئے اپنے وزراء خارجہ کو بحرین بھیج سکتےتھتے لیکن انھوں نے امریکہ کے اشاروں پر وہاں فوج بھیج کر اپنے مکروہ چہرے کو واضح کردیا انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے ظلم سے بچانے کے لئے سعودی عرب نے اپنا ایک سپاہی نہیں بھیجا اور امریکہ نواز آل خلیفہ کو بچانے کے لئے اپنے ایک ہزار سے زائد فوجی بحرین روانہ کردیئےانھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بحرین میں اپنے فوج بھیج کر معاملے کو مزيد پچیدہ کردیا ہےاور سعودیوں اور آل خلیفہ کو اپنے سنگین جرائم تاوان ادا کرنا پڑےگا اور مظلوم کا خون ان کے گریبان گیر ہوجائےگا علاقہ میں سعودی حکام کب تک امریکی مفادات کی حفاظت کریں گے عوام کی کامیابی یقینی ہے۔

News Code 1276871

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 4 =