مہر خبررساں ایجنسی نے وکی لیکس اور دیگر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وکی لیکس کے تازہ ترین انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کے نائب صدر عمر سلیمان امریکہ اور اسرائیل کے بہت قریبی اور وہ اسرائیل کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں ہیں۔وکی لیکس کے مطابق مصر کے نائب صدر عمر سلیمان اسرائیل اور امریکہ کے کافی قریب رہے ہیں اور ممکنہ طور پر وہ مصر کے نئے صدر ہو سکتے ہیں وکی لیکس کے مطابق عمر سلیمان کی اسرائیلی حکام سے خفیہ ہاٹ لائن پر تقریبا روزانہ بات ہوتی رہی ہے۔ قاہرہ میں امریکی سفارتخانے اور تل ابیب کے درمیان مراسلات کے تبادلے ظاہر کرتے ہیں کہ عمر سلیمان کے امریکی ۔ اسرائیلی حکام اورسفارتکاروں کے ساتھ قریبی رابطے رہے ہیں ۔ کچھ مراسلوں کے مطابق اسرائیل کی وزارت دفاع کے سینئیر مشیر ڈیوڈ ہیکم نے تل ابیب میں امریکی سفارتخانے سے کہا کہ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک کی سربراہی میں جانے والا وفد سلیمان سے بہت متاثر ہوا تھا۔ مراسلے کے مطابق ہیکم کے خیال میں حسنی مبارک کی وفات یا عہدہ صدارت سے ہٹنے کی صورت میں عمر سلیمان سے بہتر کوئی امیدوار نہیں ہو سکتا۔ ذرائع کے مطابق قیدیوں کے امریکہ منتقل کرنے میں بھی عمر سلیمان نے سی آئی اے کے ساتھ بہت بڑا تعاون کیا تھا ذرائع کے مطابق عمر سلمیان درحقیقت اسرائیلی ایجنٹ ہے جسے حال ہی میں مصری فرعون حسنی مبارک نے مصر کا نائب صدر بنایا ہے گذشتہ 30 برسوں میں مصر کا کوئي نائب صدر نہیں تھا یہ عہدہ خالی تھا جسے مصری صدر نے عمر سلمیان کو دیدیا ہے۔عمر سلمیان مصر کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اسرائیلی ایجنٹ ہیں کیونکہ اس نے مصری عوام کے حقوق دبانے اور اسرائیل مفادات میں مصر کے اندر بہت کام کیا ہے عمر سلمیان اس وقت بھی مصر میں امریکی اور اسرائیلی مکر و فریب کو عملی جامہ پہنانے اور مصری عوام کے انقلاب کی سمب موڑنے کی کوشش کررہا ہے۔
وکی لیکس کے تازہ ترین انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کے نائب صدر عمر سلیمان کا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بہت قریبی تعاون رہا ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں ہیں۔
News ID 1250029
آپ کا تبصرہ