مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعاون سے ایران کے اغوا کئے گئے سائنسداں شہرام امیری مقامی وقت کے مطابق آج صبح 5 بجکر 25 منٹ پر دوحہ ، تہران پرواز کے ذریعہ وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ شہرام امیری مالک اشتر صنعتی یونیورسٹی کے محقق ہیں جنھیں گذشتہ برس عمرے کے دوران مدینہ منورہ سے امریکی سی آئی اے اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی نے مشترکہ کارروائی میں اغوا کرلیا تھا۔شہرام امیری نے ایک ویڈيو پیغام کے ذریعہ اس بات پر تاکید کی تھی کہ اسے سعودی عرب اور امریکہ نے باہمی تعاون سے اغوا کیا ہے اور وہ اس وقت امریکی ریاست اریوزنا کے شہر ٹوسن میں ہیں ۔
شہرام امیری ایران کی مالک اشتر صنعتی یونیورسٹی کے ایک محقق اور سائنس داں ہیں جنھیں پچھلے سال عمرہ کے دوران مدینہ منورہ سے امریکی سی آئی اے نے سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے اغوا کرکے امریکہ منتقل کیا تھاشہرام امیری نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ انہیں مدینہ منورہ سے سعودی اور امریکی ایجنٹوں نے اغواء کیا اور تشدد کے ذریعے انہیں یہ کہنے پر مجبور کیا کہ وہ خود ایران سے بھاگ کر امریکہ پہنچے ہیں۔
ایک امریکی خبررساں ادارے اے بی سی نیوز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ایرانی سائنسدان خود بھاگ کر امریکہ پہنچے ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سی آئی اے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔لیکن شہرام امیری نے امریکہ کی تمام رپورٹوں کو جعلی اور ساختہ قراردیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کے جوہری سائنسدان شہرام امیری کو ایک سال پہلے سعودی عرب سے اغوا کیا تھا جہاں وہ حج یا عمرہ کی غرض سےگئے تھے۔
آپ کا تبصرہ