مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیری ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کی کابینہ نے اُس متنازعہ حکم نامہ کومنسوخ دیا ہے جس کی رو سے شرائن بورڑ کو بال تل کے مقام پر آٹھ سو کنال زمین منتقل کی گئی تھی۔ منگل کو تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے کابینہ کےاجلاس میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کی آٹھ سو کنال زمین پر اب امرناتھ شرائن بورڑ کا کوئی اختیار نہیں ہوگا، کیونکہ اسے محکمہ سیاحت کے سپرد کیا جائے گا ، اور یہی محکمہ یاتریوں کے لیے سفری سہولیات تعمیر کرنے کا مجاز ہوگا۔ منگل کے روز بھی زمین کی منتقلی کے خلاف بننے والی ایکشن کمیٹی نے پوری وادی کے لوگوں کو سرینگر میں واقع تاریخی جامع مسجد آنے کی کال دی تھی، جس کے رد عمل میں حکومت نے شہر میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کردیا ہے، تاہم شمالی اور جنوبی کشمیر میں جلوس نکالے گئے جنہیں جامع مسجد آنے سے روکا گیا۔ پچھلے نو روز پورے کشمیر میں شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کے خلاف وسیع پیمانے پراحتجاج کیا گيا تھا۔ادھر جموں خطے میں بی جے پی اور اس کی حلیف سخت گیر ہندو جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر نے کا اعلان کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ