مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبرانی اخبار ہاآرتص نے اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کو جنگی محاذ پر اسرائیلی فوج کے مقابلے میں برتری حاصل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور وزیر جنگ یسرائیل کاتز کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر بمباری کی دھمکیاں عملی طور پر مؤثر دکھائی نہیں دیتیں۔
ہاآرتص کے مطابق نتن یاہو کا دعوی ہے کہ اسرائیلی فوج پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ لبنان میں الشقیف قلعے پر قابض ہے، تاہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عوامی سطح پر ان دعوؤں کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دریائے لیتانی سے آگے زمینی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی صورت میں اسرائیلی فوج کو مزید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق گزشتہ دس روز کے دوران چھ اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ہاآرتص نے دعوی کیا کہ حزب اللہ اب بھی اسرائیلی فوجیوں کو مؤثر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس نے اسرائیلی فوج کی ایک اہم کمزوری کو بھی شناخت کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے پاس حزب اللہ کے خودکش ڈرونز کا مؤثر توڑ موجود نہیں، جس کی وجہ سے حزب اللہ اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔
اخبار نے یہ بھی دعوی کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد موجود ہونے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں جو اطلاعات گردش کر رہی ہیں، وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور زمینی صورتحال اس سے مختلف ہے۔
آپ کا تبصرہ