مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط لکھ کر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں امریکہ کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات کے نتائج انتہائی مہلک ہوسکتے ہیں۔
ایروانی نے خط میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ یہ بحران دنیا کے دیگر علاقوں تک پھیل کر عالمی امن و سلامتی کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
ایروانی نے اپنے خط میں بتایا کہ 7 مئی 2026 کی رات کے آخری اوقات میں امریکی افواج نے بندر جاسک اور آبنائے ہرمز کے قریب دو ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ قریب واقع ایران کے ساحلی علاقوں میں بھی متعدد مقامات پر حملے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے کھلی جارحیت اور اشتعال انگیزی ہیں، جن کا اعتراف امریکی صدر نے بھی کیا ہے، اور یہ 8 اپریل 2026 کی جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایران کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ امریکہ نے نام نہاد بحری محاصرے کے ذریعے ایرانی تجارتی جہازوں پر بار بار حملے کیے، انہیں غیرقانونی طور پر ضبط کیا اور عملے کو یرغمال بنایا، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق سمندری قزاقی کے مترادف ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1974 کی قرارداد 3314 کے مطابق جارحیت کے زمرے میں آتی ہیں اور خطے کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہیں۔
ایروانی نے واضح کیا کہ رکن سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے امریکہ کا ایسا رویہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے منافی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کو کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتی حل کی فوری ضرورت ہے۔
ایروانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے غیرقانونی اقدامات، خصوصاً ایران کے خلاف بحری محاصرے کی واضح اور کھلے الفاظ میں مذمت کریں اور امریکہ کو مزید اشتعال انگیزی سے باز رہنے کا پابند بنائیں۔
آپ کا تبصرہ