بھارت میں مسلمانوں اور عیسائيوں کو بھارتی حکومت کے متعصبانہ رویہ کا سامنا

بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر پی چدمبرم نے بھارتی حکومت کے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف معاندانہ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت نے مسلمانوں کے بعد اب عیسائيوں کو بھی اپنی معاندانہ پالیسیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں  کانگریس پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر پی چدمبرم نے اپنے ایک ٹوئیٹ بھارتی حکومت کے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف معاندانہ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت نے مسلمانوں کے بعد اب عیسائيوں کو بھی اپنی معاندانہ پالیسیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق پی چدمبرم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا مسلمانوں کے بعد اب عیسائیوں کیلئے بھی خطرہ بن گئی ہے۔ حکومت نے مدر ٹریسا کے قائم کردہ خیراتی ادارے کے فنڈ بھی بند کردیئے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے کانگریسی لیڈر نے مزید کہا کہ یہ اقدام اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ حکومت عیسائیوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اپنا رہی ہے۔ فنڈ کو روکنا حقیقت میں اُن این جی اوز پر براہ راست حملہ ہے جو بھارت میں غریبوں ناداروں کی مدد کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ مدر ٹریسا کی قائم کردہ مِشنری آف چیریٹی بھارت میں یتیموں، غریبوں اور ایڈز کے مریضوں کی اعانت کیلئے 240 خیراتی گھروں کو چلا رہی ہے۔

News Code 1909320

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 17 =