مہر خبررساں ایجنسی نے ہافینگون پوسٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی وائٹ ہاؤس میں امریکہ کی اعلی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان برناڈٹ میہن نے امریکی سینیٹرز کی طرف سے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بعض امریکی سینیٹرز جنگ کے خواہاں ہیں تو انھیں واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکی کانگریس کے بعض ارکان جنگ چاہتے ہیں تو انھیں اس بات کو واضح طور پر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
امریکی اعلی قومی سلامتی کی ترجمان نے کہا کہ امریکی سنیٹرز کا اقدام امریکی حکومت کے پرامن اقدام کے بالکل خلاف ہے اور امریکی حکومت جس معاملے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنا چاہتی ہے اگر امریکی سینیٹرز اسے جنگ کے ذریعہ حل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے اس جنگ پسند مؤقف کو واضح طور پر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی سینیٹرز کے تحریک اقدام سے ایران کے مؤقف میں بھی سختی آجائے گی اور معاملہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا اور سفارتکاری کا راستہ بند ہوجائے گا اور اس صورت میں امریکہ کے پاس جنگ یا ایران کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرنے کے علاوہ کوئي اور راستہ باقی نہیں رہےگا۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے سے جنیوا مذاکرات مشکل میں پڑ جائیں گے۔
آپ کا تبصرہ