شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلافات کا اصلی سبب وہابیت ہے

اسلامی ثقافت اور ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلافات کا اصلی سبب وہابیت ہے انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد استکباری طاقتوں نے وہابیت کو شیعوں کے قتل عام کے لئے اپنا آلہ کار بنا لیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اسلامی ثقافت اور فلسفہ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر خسرو پناہ نے کہا ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلافات کا اصلی سبب وہابیت ہے انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد استکباری طاقتوں نے وہابیت کو شیعوں کے قتل عام کے لئے اپنا آلہ کار بنا لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہابیوں کے منحرف فرقہ کی داغ بیل محمد بن عبد الوہاب نے ڈالی وہ 1115 ہجری قمری میں سعودی عرب کے علاقہ  نجد کے عیینہ  دیہات میں پیدا ہوا اور 96 سال کی عمر میں دنیا سے چل بسا لہذا وہ بارہویں صدی میں پیدا ہوا اور اسی صدی میں مرگيا۔

انھوں نے کہا کہ محمد بن عبد الوہاب نے کچھ عرصہ سعودی عرب میں تعلیم حاصل کی اور پھر بصرہ ،بغداد ،مکہ ،مدینہ اور اصفہان ، کردستان اور ہمدان کا سفر کیا اور وہ زیادہ تر نبوت کے مدعی افراد جیسے مسیلمہ کذاب ، طلیحہ اسدی اور اسود عنیسی کی کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا محمد بن عبد الوہاب شہرت طلب تھا اور اسی لئے اس نے اپنے دائرے کو وسیع کرنے کی کوششیں شروع کردیں ۔

جناب خسرو پناہ نے کہا کہ محمد بن عبد الوہاب ،اپنے باطل خیالات کو سعودی عرب میں ترویج کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اس سلسلے میں اسنے اور اس کے حواریوں نے لوگوں پر ظلم وستم روا رکھا انھوں نے کہا کہ وہابی جب سعودی عرب میں منظم ہوگئے تو انھوں نے پیغبمر اسلام (ص) کی پیدائش کے مقام، حضرت خدیجہ کی پیدائش کے مقام اور جنت البقیع میں آئمہ اہلبیت (ع) ، ازواج پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کی قبور پر بنے ہوئے مزارات کو تباہ کردیا اور اسی طرح وہابیوں نے کئی بار کربلا اور نجف پر بھی حملے کئے اور انھیں تباہ کیا اورحضرت امام حسین کے زائرین کو کافر کہہ کر انھیں قتل کرتے اور ان کے گلے کاٹتے تھے وہابیوں نے ہزاروں بے گناہ افراد کو کربلا ، نجف اور مدینہ منورہ میں قتل عام کیا اور ان کے اموال کو لوٹ لیا انھوں نے کہا کہ وہابی ابن تیمیہ کے پیروکار ہیں اور ابن تیمیہ حنبلی خیالات و نظریات کا مالک تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہابی اولیاء خدا ، توسل و تبرک ، اور اہل قبور کی زيارت کے منکر ہیں جکہ شیعہ اور سنی مفکرین اس کے موافق ہیں انھوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی اولیاء خدا کی تکریم و تعظیم کرتے ہیں اور یہ تکریم و تعظیم اسلامی روایات اور دستورات کے مطابق ہے ۔

خسرو پناہ نے کہا کہ آج دہشت گردی کے پیچھے بھی اسی وہابی شدت پسند گروہ کا ہاتھ ہے جس کا اسلام کے بنیادی عقائد سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

 

News Code 867620

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 11 =