6 جون، 2026، 7:50 PM

بیلجیم میں 4500 سے زائد یونیورسٹی اساتذہ کا اسرائیل سے تعلیمی روابط ختم کرنے کا مطالبہ

بیلجیم میں 4500 سے زائد یونیورسٹی اساتذہ کا اسرائیل سے تعلیمی روابط ختم کرنے کا مطالبہ

بیلجیم کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں سے وابستہ 4500 سے زائد طلبہ، اساتذہ اور عملے نے ایک کھلے خط کے ذریعے تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی اداروں کے ساتھ تمام تعلیمی تعاون ختم کریں۔ 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیلجیم کی یونیورسٹیوں میں اسرائیلی اداروں کے ساتھ تعاون کے خلاف آوازیں مزید بلند ہو گئی ہیں۔ 4500 سے زائد طلبہ، اساتذہ اور یونیورسٹی ملازمین نے ایک مشترکہ کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی ادارے اسرائیلی جامعات اور اداروں کے ساتھ اپنے تمام تعلیمی تعلقات ختم کریں۔

اس مہم میں 1100 سے زائد اساتذہ بھی شامل ہیں، جبکہ معروف فلسفی اسلاوی ژیژک، صحافی رودی ورانکس اور مصنفہ عائشہ آیت حامو نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔

خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں کے تناظر میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا تقاضا ہے کہ یونیورسٹیاں محض علامتی اقدامات پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی سطح پر بھی اپنے روابط کا ازسر نو جائزہ لیں۔

دستخط کنندگان نے نہ صرف موجودہ تعلیمی تعاون ختم کرنے بلکہ مستقبل میں اسرائیلی اداروں کے ساتھ کسی بھی نئے اشتراک سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بعض بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر بھی نظرثانی کی اپیل کی ہے، جن کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ وہ اسرائیل سے متعلق سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

News ID 1939602

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha