مجاہدین آزادی نے اس لئے بڑی قربانی دی، تاکہ ہم سب ایک آزاد ہندوستان کی فضا میں سانس لے سکیں

ہندوستانی صدر نے کہا کہ جب ہم یوم آزادی مناتے ہیں تو حقیقت میں ہم ’ہندوستانیت‘ کا تہوار منا رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارا بھارت تنوع سے پُر ملک ہے۔ لیکن اِس تنوع کے ساتھ ہی ہم سب میں کچھ نہ کچھ یکسانیت ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا سے نقل کیاہےکہ بھارتی صدر دروپدی مرمو نے 76ویں یوم آزادی کی ماقبل شام ملک اور بیرون ملک میں رہنے والے سبھی ہندوستانیوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ایک آزاد ملک کے طور پر ہندوستان 75سال مکمل کر رہا ہے۔ اس مبارک دن کی سالگرہ مناتے ہوئے ہم لوگ جنگ آزادی میں حصہ لینے والے تمام مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سب سے بڑی قربانی دی، تاکہ ہم سب ایک آزاد ہندوستان کی فضا میں سانس لے سکیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں مانتی ہوں کہ ہندوستان کی یہ کامیابی محض ایک اتفاق نہیں تھا۔ تہذیب کی شروعات سے ہی ہندوستان کے سنتوں اور عظیم شخصیتوں نے ہر فرد کی برابری اور اتحاد پر مبنی زندگی کا نظریہ قائم کرلیا تھا۔ مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیتوں کی قیادت میں ہوئی جنگ آزادی کے دوران ہماری قدیم اقدارِ زندگی کو اس جدید زمانے میں پھر سے قائم کیا گیا۔ اِسی وجہ سے ہماری جمہوریت میں ہندوستانیت کے عناصر نظر آتے ہیں۔ گاندھی جی حکومت کی لامرکزیت اور عام عوام کو مکمل اختیارات دینے کے حامی تھے۔ گزشتہ 75 برسوں سے ہمارے ملک میں جنگ آزادی کی عظیم قدروں کو یاد کیا جا رہا ہے۔ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ مارچ 2021 میں دانڈی یاترا کی یاد کو پھر سے جیتی جاگتی شکل دے کر شروع کیا گیا تھا۔ اِس عہد ساز تحریک نے ہماری جدوجہد کو عالمی سطح پر مقام دلایا۔ اس کا احترام کرتے ہوئے ہمارے اِس مہوتسو کی شروعات کی گئی۔ یہ مہوتسو ہندوستان کے عوام کے نام وقف ہے۔ ملک کے عوام کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابی کی بنیاد پر ’خودکفیل بھارت‘ کی تعمیر کا عزم بھی اِس اتسو کا حصہ ہے۔ ہر عمر کے شہری پورے ملک میں منعقد ہو رہے اِس مہوتسو کے پروگراموں میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ یہ شاندار مہوتسو اب ’ہر گھر ترنگا مہم‘ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ آج ملک کے کونے کونے میں ہمارا ترنگا شان سے لہرا رہا ہے۔ جنگ آزادی کی قدروں کے تئیں اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں میں بیداری دیکھ کر ہمارے مجاہدین آزادی اگر آج ہوتے تو ضرور خوش ہوتے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہماری قابل فخر جنگ آزادی اس عظیم ملک ہندوستان میں نہایت پُر وقار انداز میں شجاعت کے ساتھ جاری رہی۔ بہت سے عظیم مجاہدین آزاد ی نے بہادری کی مثالیں پیش کیں اور قومی بیداری کی مشعل اگلی نسل کو سونپی۔ بہت سے بہادروں اور ان کی جدوجہد خصوصاً کسانوں اور قبائلی معاشرے کے بہادروں کے تعاون کو ایک طویل عرصے تک اجتماعی طور پر یاد نہیں کیا جا سکا۔ گزشتہ سال سے ہر 15 نومبر کو قبائلی افراد کے لئے یوم فخر کے طور پر منانے کا حکومت کا فیصلہ خیرمقدم کئے جانے کے لائق ہے۔ ہماری عظیم قبائلی شخصیتیں صرف مقامی یا علاقائی علامتیں ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے باعث ترغیب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک قوم کے لئے، خاص طور سے ہندوستان جیسے قدیم ملک کی طویل تاریخ میں 75سال کا بڑا عرصہ بہت چھوٹا نظر آتا ہے۔ لیکن انفرادی سطح پر یہ عرصہ ایک مکمل زندگی کے عرصے کے برابر ہے۔ ہمارے بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی میں انوکھی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ یہ افراد گواہ ہیں کہ کس طرح آزادی کے بعد سبھی نسلوں نے سخت محنت کی، بڑے چیلنجوں کا سامنا کیا اور خود اپنی قسمت لکھی۔ اِس دور میں ہم نے جو کچھ سیکھا ہے، وہ سب کارآمد ثابت ہوگا، کیونکہ ہم اپنے ملک کے سفر میں ایک تاریخی موڑ کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم سب 2047 میں آزادی کی صدی تقریبات کے لئے 25 سال کے وقفے یعنی بھارت کے سنہری دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ جب ہم یوم آزادی مناتے ہیں تو حقیقت میں ہم ’ہندوستانیت‘ کا تہوار منا رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارا بھارت تنوع سے پُر ملک ہے۔ لیکن اِس تنوع کے ساتھ ہی ہم سب میں کچھ نہ کچھ یکسانیت ہے۔ یہی یکسانیت ملک کے تمام شہریوں کو ایک دھاگے میں پروتی ہے اور ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ہمارے مادر وطن کا دیا ہوا ہے، اس لئے ہمیں اپنے ملک کی حفاظت، ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا سب کچھ وقف کر دینے کا عزم کرنا چاہئے۔ ہمارے وجود کی معنویت ایک عظیم ہندوستان کی تعمیر میں ہی نظر آئے گی۔

News Code 1912004

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha