ایران کے انتخابات " اسلامیت اور جمہوریت " کا مظہر ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران میں 18 جون کو تیرہویں صدارتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔ ایران میں ہر چار سال بعد صدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران میں 18 جون کو صدارتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔ ایران میں ہر چار سال بعد صدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔ ایران کے الیکش کمیشن کے ترجمان سید اسماعیل موسوی نے کہا ہے کہ ایران میں 59 ملین 3 لاکھ 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں ملک بھر میں 72 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے جارہے ہیں۔

ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں صدارتی عہدے تک پہنچنے کے لئے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ ان اُمیدواروں میں موجودہ چیف جسٹس ابراہیم رئیسی، سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی، پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی، ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر سید امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی، سابق نائب صدر مہر علی زادہ اور پارلیمنٹ ممبر علی رضا زاکانی شامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت امام خمینی (رہ) کی 32 ویں برسی کے موقع پر اپنے خطاب میں انتخابات کی اہمیت کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "حضرت امام خمینی (رہ) نے بہت سے اہم اقدامات انجام دیئے جن میں اسلامی جمہوری نظریہ پر مبنی انتخابات شامل ہیں جو ان کی سب سے اہم خلاقیت ، جدت اور نوآوری ہے ، یہی دینی  اور مذہبی جمہوریت ہے۔ امام خمینی (رہ) کے اس یادگار اقدام کی دور حاضر اور مستقبل میں حفاظت اور نگہبانی ضروری ہے۔"

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: " اسلامی جمہوری نظام کے مخالفین دو قسم کے ہیں، ایک لیبرل نظریہ کے حامی ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ دین اور مذہب  کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جبکہ دوسرا نظریہ داعشی نظریہ ہے یہ لوگ دینی حاکمیت کے قائل ہیں لیکن عوام اور جمہوریت کے خلاف ہیں۔ حضرت امام خمینی (رہ) نے اللہ تعالی کی ذات پر ایمان و توکل اور عوام پر یقین رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریت کا نظریہ پیش کیا اور گہری دینی معرفت کے ساتھ  اپنے اس نظریہ پر قائم رہے یہاں تک کہ اسے عملی جامہ پہنا دیا۔"

ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام نے گذشتہ 4 دہائيوں سے انتخابات میں شرکت کرکے ثابت کردیا ہے کہ ایران اسلامیت اور جمہوریت کا گہوارہ ہے ایران میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہیں اور ایران میں سیاسی قیادت کے انتخاب میں عوام کا بنیادی اور اساسی کردار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک ٹوئیٹر بیان میں صدارتی انتخابات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کی انتخابات میں بھر پور شرکت ایران کے تمام حامیوں اور طرفداروں کے لئے مفید اور مؤثرثابت ہوگي۔

انھوں نے کہا کہ انتخاب عوام کا حق ہے اور انتخابات میں شرکت ہر ایرانی کی قومی اور شرعی ذمہ داری ہے۔ اسلامی جمہوری نظام عوام کا اور عوام کے لئے ہے۔صدارتی انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت ملکی ترقی اور پیشرفت کے لئے اہم اور مفید ثابت ہوگی ۔

ایران میں تیرہویں صدارتی انتخابات 18 جون کومنعقد  ہوں گے۔ایرانی صدر حسن روحانی 2 مرتبہ صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد سبکدوش ہو جائیں گے، ایران میں مسلسل 3 مرتبہ صدر بننے کی قانون میں اجازت نہیں ہے۔ ایرانی قانون کی شق 66  کے مطابق  امیدواروں کی طرف سے تبلیغات کا سلسلہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ناموں کے اعلان کے بعد سے شروع ہوجاتا ہے جبکہ صدارتی تبلیغات کا سلسلہ ووٹنگ سے 24 گھنٹہ پہلے ختم ہوجاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات ایک انتہائی حساس علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں منعقد ہورہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ انتخابات ایک طرف ایرانی عوام کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں تو دوسری جانب ہمسایہ ممالک کے عوام کے لئے بھی اہم ہیں.  صدارتی انتخابات میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت اہمیت کی حامل ہے۔ ایرانی عوام صدارتی انتخابات میں بھر پور شرکت کرکے انقلاب اسلامی کے دشمنوں کی تمام گھناؤنی سازشوں کو خاک میں ملا دیں گے اور اسلامیت و جمہوریت کی بقا کا شاندار مظاہرہ کریں گے۔

News Code 1906871

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 13 =