ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو قطر پر حملہ کرنے سےر وک دیا

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو قطر پر فوجی حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو قطر پر فوجی حملہ کرنے  سے روک دیا تھا۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برس جون میں قطر سے سفارتی تعلقات خراب ہونے پر فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی خبروں کی ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ سعودی عرب اور امارات نے سعودی فوجی دستوں اور امارات کی فوجی قوت کے ساتھ مل کر قطر کے دارالحکومت دوحہ  پر قبضہ کرنا تھا۔  امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے موجودہ اور دو سابق اعلیٰ حکام کے مطابق سعودی عرب اور امارات کے فرمانرواؤں کی جانب سے قطر پر وسیع پیمانے پر فوجی حملہ کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جس پر جلد ہی عملدرآمد کیا جانا تھا۔انہوں نے بتایا کہ سعودی فورسز نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے خلاف العدید ایئربیس پر حملہ کرکے دوحہ پر قبضہ کرنا تھا ۔ یہ علاقہ امریکی ایئر سینٹرل کمانڈ فورس کا گڑھ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی دستے تعینات ہیں۔العدید امریکہ کا اہم ترین ملٹری بیس ہے جہاں سے مشرق وسطی میں آپریشن کیے جاتے ہیں۔قطری انٹیلی جنس حکام نے ریکس ٹلرسن کو اس منصوبے سے آگاہ کیا تو انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو قطر پر حملہ کرنے سے روک دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کو بھی قطری ریاست پر حملے کے خطرے سے آگاہ کردیا۔ ریکس ٹلرسن کی جانب سے قطر پر حملہ نہ کرنے کے دباؤ پر شاہ سلمان اپنے ناپاک عزائم سے پیچھے ہٹ گئے کیونکہ اگر سعودی عرب قطر پر حملہ کرتا ہے تو یہ سعودی امریکی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ادھر ترکی اور ایران نے بھی قطر کی بڑھ کر حمایت کردی جس کے بعد قطر کے خلاف سعودی عرب، امارات ، بحرین اور مصر کی اقتصادی پابندیاں بھی ناکام ہوگئیں۔

News Code 1882851

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 11 =