ترکی اور ایران کی عراقی کردستان میں ریفرنڈم کی مخالفت

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے انقرہ میں ملاقات کے دوران عراقی کردستان میں ریفرنڈم نہ کرانے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سامراجی طاقتیں اسلامی ممالک کو چھوٹے جھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے انقرہ میں ملاقات کے دوران عراقی کردستان میں ریفرنڈم نہ کرانے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سامراجی طاقتیں اسلامی ممالک کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔

میجر جنرل باقری نے آئی آر آئی بی خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کے سکیورٹی حکام نے باہمی تعلقات اور فوجی تعاون  کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے انھوں نے کہا کہ ترکی کے سول اور فوجی حکام کے ساتھ مذاکرات مثبت اور مفید رہے ہیں دونوں ممالک نے سرحدی سکیورٹی کے امور پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ترکی کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کو تہران کے دورے کی دعوت دی گئی ہے اور دونوں ممالک کے سیاسی اور فوجی تعلقات اچھی اور مطلوب سطح پر ہیں۔

میجر جنرل باقری نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امور پر بھی ترکی کے ساتھ مذاکرات بہت اچھے رہے ہیں علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک کے نظریات مشترک ہیں ۔

جنرل باقری نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان بھی عراقی کردستان میں ریفرنڈم  کے خلاف ہیں جبکہ عراقی کردستان کے بارے میں ایران بھی ترکی کے نظریہ کی تائید کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری ترکی کے تین روزہ دورے پر ہیں جہاں انھوں نے ترکی کے صدر اردوغان ، وزير دفاع اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ساتھ دو طرفہ ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

News Code 1874620

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 8 =