بے خوابی کا شکار خواتین کا ذیابیطس میں مبتلا ہونےکا بہت زیادہ خدشہ

ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک مطالعے کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر خواتین شدید بے خوابی کی شکار ہیں تو ان کے ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہونےکا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک مطالعے کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر خواتین شدید بے خوابی کی شکار ہیں تو ان کے ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہونےکا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔  ہارورڈ میں ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدان کے مطابق بے خوابی کی شکار خواتین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس مطالعے میں امریکہ کی ایک لاکھ سے زائد خواتین کو 2000 سے 2014 تک کے 15 برسوں تک نوٹ کیا جن میں شوگر سمیت کوئی مرض موجود نہ تھا لیکن 10 سال کے دوران 6400 خواتین ذیابیطس کی شکار ہوئیں جن خواتین میں نیند کی شکایت تھی وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوگئیں  جب کہ جن خواتین میں نیند کا جتنا مسئلہ تھا وہ اتنی ہی جلدی ذیابیطس میں گرفتار ہوئیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں نیند اور ذیابیطس کے درمیان گہرا تعلق نوٹ کیا گیا ہے جس میں سائنسدانوں کے مطابق نیند کی کمی سے جسم کے اندرمختلف قسم کے ہارمون متاثر ہوتے ہیں جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 6 گھنٹے سے کم کی نیند، غنودگی، نیند کی کمی اور شفٹوں میں کام کرنے والے افراد میں بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے لیکن جو خواتین نیند کی شدید کمی کا شکار ہیں ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 45 فیصد بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند متاثر ہونے سے ہارمون کا توازن بگڑتا ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور دیگر جسمانی معمولات کے لیے ضروری ہوتا ہے اسی لیے نیند کی کمی شوگر کے مرض اور موٹاپے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

News Code 1861508

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 9 =