رہبر معظم :محبت ودوستی بے مثال/ اردوغان:ایران میرا دوسرا گھر  ہے

مہر نیوز/29 جنوری /2014ء: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج سہ پہر کو ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور اس کے ہمراہ وفد کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اخوت، محبت اور دوستی بے مثال رہی ہے۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ میں ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج ( بروز بدھ)  سہ پہر کو ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور اس کے ہمراہ وفد کے ساتھ ملاقات میں حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اخوت، محبت اور دوستی کو بے مثال قراردیتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک کے باہمی روابط کو فروغ دینے کے لئے وسیع ظرفیتیں موجود ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جناب اردوغان کے دوروں کے دوران ہونے والے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں تہران اور انقرہ کے ٹھوس اور سنجیدہ اقدام کو لازمی قراردیتے ہوئے فرمایا: عملی اقدامات دونوں ممالک کے باہمی روابط میں زیادہ سے زیادہ استحکام اوربرق رفتار  پیشرفت کا موجب بنیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دونوں قوموں کے قلبی تعلقات اور رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: موجودہ فرصتوں اور مواقع سے صحیح اور بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔

ترکی کے وزیر اعظم جناب رجب طیب اردوغان نےبھی اس ملاقات میں ترک صدر اور ترکی کے عوام کی طرف سے گرم اور صمیمی سلام رہبر معظم انقلاب اسلامی کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا: میں ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔

ترکی کے وزیر اعظم نے آج ایران کے صدر اور دیگر اعلی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کو بہت ہی مفید اور مؤثر قراردیا اور کچھ معاہدوں پر دستخط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: امید ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی روابط میں پیشرفت اور توسعہ عالمی اور علاقائی ممالک کے لئے بہترین نمونہ قرار پائےگآ۔

ترکی کے وزیر اعظم اردوغان نے ایران اور ترکی کے درمیان تعاون کی اعلی کونسل کی دستاویز پر دستخط کو بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے کہا: مسلسل باہمی اجلاس اور گفتگو کے ذریعہ  باہمی روابط کو سنجیدگی کے ساتھ فروغ دیں گے اور ایسا محسوس ہوگا کہ گویا دونوں ممالک کے وزراء ایک مشترکہ کابینہ میں بیٹھ کر باہمی تعاون اور مذاکرات میں مشغول اور مصروف ہیں۔

News Code 1832736

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 13 =