27 اکتوبر، 2025، 11:06 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

حضرت زینب علیھا السلام، صبر، عقل اور مقاومت کی روشن مثال

حضرت زینب علیھا السلام، صبر، عقل اور مقاومت کی روشن مثال

عاشورا کے بعد ظلمت کے اندھیروں میں حق کی آواز بلند کرنے والی عظیم بی بی، حضرت زینب علیھا السلام تاریخِ اسلام کی بے مثال خاتون رہنما کے طور پر ابھریں اور نے صبر، شعور اور قیادت کی نئی مثال قائم کی۔

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: حضرت زینب علیھا السلام کی ولادت باسعادت پانچ جمادی الاول کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام‌الله‌علیہا کی صاحبزادی اور رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ‌وسلم کی نواسی ہونے کے ساتھ ساتھ علم، صبر، شجاعت اور بصیرت کی مجسم تصویر تھیں۔

حضرت زینب کبری سلام‌الله‌علیها اسلامی تاریخ کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف مصیبتوں کے طوفان میں صبر و استقامت کی بے مثال مثال قائم کی، بلکہ عقل، شعور اور مقاومت کے ایسے نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک خواتین کے لیے مشعل ہیں۔ انہوں نے اپنی شناخت خونی نسبتوں سے نہیں، بلکہ ایمان اور معرفت کی گہرائی سے حاصل کی، اور یہ ثابت کیا کہ عورت اپنی فکری و روحانی صلاحیتوں کے بل پر تاریخ کے مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوسکتی ہے۔ اس وقت جب معاشرتی ساخت عورت کو محدود اور ثانوی حیثیت میں دیکھتی تھی، حضرت زینب سلام اللہ علیہا ان حدود سے آگے بڑھیں اور ان واقعات کے مرکز میں کھڑی ہوئیں جنہوں نے امت کا مستقبل رقم کیا۔ عاشورا کے بعد جب ظلمت کے اندھیرے چھا گئے، حضرت زینب علیھا السلام نے حق کی آواز بلند کی اور امام حسین علیہ‌السلام کی تحریک کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی۔

واقعہ کربلا کے بعد حق کی ترجمانی

حضرت زینب کبری سلام‌الله‌علیها نے تاریخِ اسلام اور انسانی شعور کو یہ پیغام دیا کہ عورت کی روحانی، عقلی اور معنوی صلاحیتیں بے حد عظیم ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے ان تمام نظریات کو چیلنج کیا جو ماضی یا حال میں کسی بھی شکل میں عورت کی تحقیر کرتے ہیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے کردار سے عورت کے بلند مقام اور اس کی فکری و روحانی عظمت کو دنیا کے سامنے ثابت کیا۔

اس عظیم ہستی نے دو بنیادی حقائق کو عملی طور پر واضح کیا: اول، عورت صبر و تحمل کا ایک وسیع سمندر بن سکتی ہے۔ دوم، عورت عقل و تدبیر کی بلند چوٹی پر فائز ہو سکتی ہے۔ یہ پیغام صرف کوفہ و شام کے لوگوں کے لیے نہیں تھا، بلکہ پوری تاریخ اور تمام انسانیت کے لیے تھا۔ تاریخ میں عورت کا مقام اکثر افراط و تفریط کے ساتھ ہے۔ کبھی مظلومیت اور صبر کی تصویر کے طور پر، اور کبھی عقل و رہنمائی کی علامت کے طور پر۔ حضرت زینب کبری علیھا السلام وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے ان دونوں پہلوؤں کو یکجا کرکے ایک نئی اور مکمل تصویر پیش کی۔ انہوں نے مصیبتوں سے طاقت حاصل کی اور قیادت کو نئی جہت دی۔ تاریخ میں ایسی خواتین بہت کم گزری ہیں جنہوں نے عقل و احساس، صبر و اقدام، ایمان و آگاہی کو اپنی ذات میں سمویا ہو۔ حضرت زینب علیھا السلام نے عاشورا کے بعد نہ صرف اس عظیم واقعے کی راوی کا کردار ادا کیا، بلکہ اس تحریک کی رہنما بھی بنیں۔ اس دور میں جب عورتوں کو اقتدار کے حاشیے پر رکھا جاتا تھا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا انقلابی واقعات کے مرکز میں کھڑی ہوئیں۔ وہ خاتون جنہوں نے اسارت کو منبر میں بدل دیا اور دشمن کے دربار کو حق کی تبلیغ کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کے خطبات شام کے دربار میں تلوار کی مانند اثر رکھتے تھے، اور ان کی منطق نے ظلم کی سلطنت کو لرزا دیا۔

حضرت زینب کبری سلام‌الله‌علیها نے اپنی خودمختاری کو خونی نسبتوں سے نہیں، بلکہ ایمان اور معرفت کی اصل سے حاصل کیا۔ اس وقت جب معاشرتی ساخت عورت کو محدود اور ثانوی حیثیت میں دیکھتی تھی، حضرت زینب علیھا السلام ان حدود سے آگے بڑھیں اور ان واقعات کے مرکز میں کھڑی ہوئیں جنہوں نے امت کا مستقبل رقم کیا۔ عاشورا اور اس کے بعد، امام حسین علیہ‌السلام کی تحریک کے تسلسل میں، انہوں نے قیادت کا پرچم سنبھالا۔ یہ قیادت ظاہری طاقت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ عقل کی بلوغت، روح کی شجاعت اور ایمان کی شفافیت کا ثمر تھی۔ حضرت زینب علیھا السلام نے ثابت کیا کہ عورت تاریخ کے قلب میں کھڑی ہوسکتی ہے؛ فیصلہ کر سکتی ہے؛ بول سکتی ہے؛ قیادت کرسکتی ہے اور سخت ترین لمحوں میں حق کی صدا بلند کرسکتی ہے۔

بحرانی حالات میں بصیرت اور تدبیر کا مظاہرہ

رہبر انقلاب اسلامی نے ان کے بارے میں فرمایا: "زینب کبری سلام اللہ علیہا نے عورت کے بلند مقام اور اس کی روحانی و عقلی عظمت کو ثابت کیا۔" یہی جملہ کافی ہے کہ ہم سمجھ سکیں کہ حضرت زینب کا صبر، محض خاموشی نہیں بلکہ تدبیر اور طاقت کی ایک شکل ہے۔ وہ صبر کا سمندر اور عقل و حکمت کی چوٹی تھیں؛ ایسی خاتون جنہوں نے دکھایا کہ عورت ہونا کمزوری اور ضعف نہیں۔ آج کے دور میں جب عورت کی تصویر کو کبھی کمزور اور کبھی محض جذباتی بناکر پیش کیا جاتا ہے، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عورت ایمان، عقل اور طاقت کی بلندی پر کھڑی ہوسکتی ہے؛ وہ بحرانی حالات میں قیادت کرسکتی ہے اور مشکلات کے بیچ میں راہ حل تخلیق کرسکتی ہے۔

زینب کبری سلام اللہ علیہا صرف امام حسین علیہ السلام کی بہن نہیں، بلکہ شعور و قیادت کی علمبردار خاتون تھیں؛ ایسی خاتون جنہوں نے ثابت کیا کہ تاریخ کے دل میں کھڑے ہوکر حق کو نئے انداز سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دکھایا کہ عورت کی شرکت صرف علامتی یا جذباتی میدانوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ شعور، اخلاق اور معاشرتی رہنمائی کا محور بن سکتی ہے۔ زینبی منطق میں عورت نہ مرد کی حریف ہے اور نہ لونڈی، بلکہ انسانی ذمہ داری میں شریک اور مکمل ساتھی ہے۔ ایمان، علم اور شجاعت سے بھرپور خواتین ایک نسل کو متاثر کر سکتی ہیں وہ نسل جو مستقبل کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

News ID 1936142

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha