امارات کی گھبراہٹ میں فجیرہ بندرگاہ بم دھماکوں کی تردید اور پھرکافی دیر بعد تصدیق

متحدہ عرب امارات نے پہلے گھبراہٹ میں اہم بندرگاہ فجیرہ میں تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے بم دھماکوں کی تردید کی جبکہ بعد میں تیل بردار 4 کشتیوں میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، امارات کے اس اقدام کو اس کی بہت بڑی رسوائی قراردیا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات  نے پہلے گھبراہٹ میں اہم بندرگاہ فجیرہ میں تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے بم دھماکوں کی تردید کی جبکہ بعد میں تیل بردار 4 کشتیوں میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، امارات  کے اس اقدام کو اس کی بہت بڑی رسوائی قراردیا جارہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی  اہم بندرگاہ فجیرہ میں کل  تیل بردار کشتیوں میں متعدد بم دھماکے ہوئے متحدہ عرب امارات کے حکام نے پہلے گھبراہٹ میں ان دھماکوں کی تردید کی  لیکن کافی دیر کے بعد 4 تیل بردار  کشتیوں میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوگئے اماراتی حکام نے کہا کہ ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تیل بردار کشتیوں میں بم  دھماکوں کو امارات کی بہت بڑی رسوائی قراردیا جارہا ہے۔ دھماکوں کے بعد اماراتی حکام کو شدید سر افکندگی اورپریشانی لاحق ہوگئی ہے۔

فجیرہ بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے بہت جلد عالمی ذرائع ابلاغ کی سرخیاں بن گئے۔ المیادین کے مطابق فجیرہ بندرگاہ پر کئی بم دھماکے ہوئے ، جن میں امارات کی 7 سے 10 تیل بردار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھرسعودی عرب کے انرجی کے وزیر خالد الفالح نے اعتراف کیا ہے کہ امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب اس کی 2 تیل بردار کشتیوں کو تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا گيا ہے۔ خالد الفالح نے کہا کہ حملے میں سعودی عرب کی تیل بردار کشتیوں کو کافی نقصان پہنچا ، البتہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ادھر امارات کی وزارت خارجہ نے بھی بڑی دیر کے بعد فجیرہ کے قریب اپنی 4 تیل بردار کشتیوں پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حملےمیں کشتیوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ امارات کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ اس کی 4  تجارتی کشتیوں کو نشانہ بنایا گيا ہے۔ ذرائع کے مطابق فجیرہ دھماکوں کے بعد امارات کو سکیورٹی خلا کا سامنا ہے جس پر اماراتی حکام کو سخت غصہ اور شرمندگی اٹھانا پڑی ہے۔ امارات کو مزید ایسے حملوں کے سلسلے میں تشویش لاحق ہوگئی ہے اور اسی قسم کی پریشانی سعودی عرب کو بھی درپیش ہے۔

News Code 1890485

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 4 =