پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جوہری تنازعہ کا خطرہ

امریکی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان اور ہندوستان اسی طرح اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرتے رہے تو دونوں ممالک کے اسٹراٹیجک استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان اور ہندوستان اسی طرح اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرتے رہے تو دونوں ممالک کے اسٹراٹیجک استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی جانب سے امریکی قانون سازوں کو ارسال کی جانے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جوہری ہتھیار، ہندوستان کو اپنے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، تاہم پاکستان ان کی تعداد میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ رپورٹ میں ہندوستان کے جوہری ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم چونکہ یہ رپورٹ پاکستان کے حوالے سے تیار کی گئی ہے اس لیے اس میں پاکستان کے جوہری پروگرام پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مصنفین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ خطے میں جوہری تنازع کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پاکستان کے پاس تقریباً 110 سے 130 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جوہری تنازع کے خطرے کو بڑھادیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان سے ایٹمی ہتھیاروں کی خرید کی تلاش کررہا ہے جس پر امریکی حکام کو بھی تشویش لاحق ہے۔

News Code 1861274

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha