سعودی عرب اور قطر ، ترکی کو ایران سے جدا کرنا چاہتے ہیں

مہر نیوز- 13 اپریل 2012ء: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے استنبول میں گروپ 1+5 اور ایران کے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عرب ممالک منجملہ سعودی عرب اور قطر، ترکی کو ایران سے دور کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں جبکہ ترکی اور ایران کے مشترکہ مفادات ہیں اور ترکی ایران کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے پارلیمانی نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن محمد مہدی شہریاری نے استنبول میں  گروپ 1+5 اور ایران کے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عرب ممالک منجملہ سعودی عرب اور قطر، ترکی کو ایران سے دور کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں جبکہ ترکی اور ایران کے مشترکہ مفادات ہیں اور ترکی ایران کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور گروپ 1+5 کے مذاکرات کی جگہ کے بارے میں جو مسائل بیان کئے گئے ہیں وہ اس شکل میں نہیں تھے کہ ایران ترکی میں مذاکرات نہیں کرنا چاہتا بلکہ پہلے مغربی ممالک نے ترکی میں مذاکرات کی مخالفت کی پھر ایران نے بغداد میں مذاکرات کی تجویز پیش کی اور اس مومضوع کو اتنا بڑا بنا کر پیش کیا گيا کہ گویا ایران اور ترکی کے درمیان اختلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ، قطر اور بعض دیگر عرب ممالک ایران اور ترکی کے درمیان اختلاف اور خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران اور ترکی کے مشترکہ مفادات ہیں اور ترکی ایران کے ساتھ روابط کو ترجیح دے رہا ہے شہریاری نے استنبول مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک مذاکرات میں اگر صداقت سے کام لیں گے تو مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے اور اگر انھوں نے دباؤ اور دھمکی کی پالیسی کو جاری رکھا اور ایرانی قوم کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی تو اس صورت میں مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں ہے کیونکہ ایران اپنے قومی اور ملکی مفادات سے ایک اینچ بھی پيچھے نہیں ہٹے گا۔

News Code 1575779

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 5 =