مہرخبررساں ايجنسي نے نقل كيا ہے كہ سعودي عرب كے وزير خارجہ سعود الفيصل نے بي بي سي سے گفتگو كرتے ہوئے تاكيد كي ہے كہ ايران كے ايٹمي معاملے كا بہترين حل مذاكرات اور سفارتكاري ميں ہي ہے مغربي ممالك نے اسرائيل كو ايٹمي ہتھيار فراہم كركےعلاقے ميں ايٹمي بحران پيدا كيا ہے
سعودي عرب وزير خارجہ نے كہا ہے كہ ايران كے جوہري پروگرام كي موجودہ صورتحال كي ذمہ داري مغربي ممالك پر عائد ہوتي ہے كيونكہ مغرب نے اسرائيل كو جوہري ہتھيار بنانے كي اجازت پہلے ہي دے ركھي ہے شہزادہ سعود نے بي بي سي كو بتايا كہ ايران كي جوہري پاليسي كے ليے مغربي دنيا ذمہ دار ہے انھوں نے كہا كہ مغربي ممالك ايك طرف ايران كو پرامن جوہري پروگرام روكنے كے ليے كہہ رہے ہيں جبكہ دوسري طرف مغربي ممالك نے اسرائيل كو جوہري ہتھيار بنانے ميں بذات خود مدد فراہم كي ہے اور يہ امر مغربي ممالك ےك دوہرے معيار كا آئينہ دار ہے واضح رہے كہ ايران نے اپنے جوہري پروگرام كے پر امن ہونے كے ثبوت ميں بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي كے معائنہ كاروں كو تحقيق كي مكمل اجازت دے ركھي ہے اور ايران كي تمام ايٹمي تحقيقات بين الاقوامي ايٹمي ايجسي كے معائنہ كاروں كي زير نگراني انجام پارہي ہيں
آپ کا تبصرہ