جموں و کشمیر میں لوگوں کو احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کسانوں نے پُرامن احتجاج سے مودی حکومت کو متنازع زرعی قوانین منسوخ کرنے پر مجبور کیا لیکن بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں لوگوں کو احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کسانوں نے پُرامن احتجاج سے مودی حکومت کو متنازع زرعی قوانین منسوخ کرنے پر مجبور کیا لیکن بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں لوگوں کو احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت وادی میں مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کا حل انتخابات میں نہیں ہے، مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات کرنے کا کہو تو بھارتی حکومت ناراض ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری، ایل او سی سیزفائر کے معاملے پر کیا بھارت نے پاکستان سے بات نہیں کی؟ بی جے پی کے اپنے رہنما سابق وزیراعظم واجپائی نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات چیت کی، مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جنگل راج قائم ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا ایک دن بھارتی حکومت کو آرٹیکل 370 اور 35 اے سود کے ساتھ واپس کرنا پڑے گا، وادی کی خصوصی حیثیت کی بحالی تک کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

News Code 1908909

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =