تہران کورونا وائرس کے باوجود عالمی رہنماؤں کی رفت و آمد کامرکز بن گیا

ایران کے نئے صدرسید ابراہیم رئیسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد سامراجی طاقتوں سے وابستہ عالمی ذرائع ابلاغ نے یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ رئیسی کے آنے کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی محدود ہوجائےگی۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نئے صدرسید ابراہیم رئیسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد سامراجی طاقتوں سے وابستہ عالمی ذرائع ابلاغ نے یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ رئیسی کے آنے کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی محدود ہوجائےگی۔ لیکن تہران میں ان کی حلف برداری کی تقریب میں عالمی رہنماؤں کی بھر پور اور وسیع پیمانے پر شرکت نے مغربی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کو غلط ثابت کردیا۔ حتی اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں خلیج فارس اور خلیج عمان میں تیل بردار بحری کشتیوں پر حملوں کو بہانہ بنا کر یورپی ممالک کے نمائندوں کو روکنے کی بھر پور کوشش کی اور انھیں دھمکیاں بھی دیں، جو کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے ایران کے نئے صدر کی خارجہ پالسی کو محدود بنا کر پیش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ایران کے نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے رہنماؤں کی بھر پور شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی اسلامی، انقلابی ،انسانی اور اخلاقی اصولوں پر استوار ہے ایران کے دنیا سے گہرے اور مضبوط تعلقات ہیں۔ کورونا کی عالمی وبا کے باوجود تہران میں صدرسید ابراہیم رئیسی کی حلف برداری کی تقریب میں عالمی رہنماؤں کی بھر پور اور وسیع شرکت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایران کے عالمی برادری کے ساتھ گہرے اور عمیق تعلقات ہیں۔ صدر سید ابراہیم رئیسی کی حلف برداری کی تقریب میں ایران کے ہمسایہ ممالک کے نمائندہ وفود کی بھرشرکت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی مضبوط اور گہرے تعلقات ہیں۔ صدر سید ابراہیم رئی کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی سینیٹ کے سربراہ محمد صادق سنجرانی ، افغانستان کے صدر اشرف غنی، عراق کے صدر برہم صالح اور ہندوستان حکومت کے خصوصی ایلچی کی شرکت اس بات کا نمایاں ثبوت ہے۔

News Code 1907667

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 2 =