کینسر کا علاج 6 اہم جڑی بوٹیوں میں چھپا ہوا ہے

قدرت نے ایسی ہزاروں جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن میں کھانے کے علاوہ بیماریوں کا علاج بھی پوشیدہ ہے تحقیق کے مطابق 6 ایسی جڑی بوٹیاں اور کھانے میں استعمال ہونے والی اشیا ہیں جن میں کینسر کا بہترین علاج چھپا ہوا ہے۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے قنل کیا ہے کہ قدرت نے ایسی ہزاروں جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن میں کھانے کے علاوہ بیماریوں کا علاج بھی پوشیدہ ہے اور اس لیے اب سائنس دان ان کے اندر چھپے صحت کے خزانوں کو سامنے لارہے ہیں ایسی ہی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 6 ایسی جڑی بوٹیاں اور کھانے میں استعمال ہونے والی اشیا ہیں جن میں کینسر کا بہترین علاج چھپا ہوا ہے۔

ادرک: ان جڑی بوٹیوں میں ادرک کا نام سرفہرست ہے جسے زمانہ قدیم سے حکما نزلے سے لے کر قبض تک کی بیماریوں کی ادویات کی تیاری میں استعمال کرتے رہے ہیں جب کہ اسے تازہ پاؤڈر کی شکل میں یا پھر گرائنڈ کرکے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ادرک کا باقاعدہ استعمال کینسر کے دوران جسم میں مزاحمت پیدا کرتا ہے اور بالخصوص کینسر کے علاج کے دوران ہاضمے کو درست رکھنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

سدا بہار کے پھول: یہ ایک یونانی سوئی کی شکل کی جڑی بوٹی ہے جسے عام طور پر ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جبک ہ بحروم کے لوگ اسے کھانے میں بھی استعمال کرتے ہیں جیسے سوپ، ٹماٹر سے بنے ساس، روٹی اور ہائی پروٹین غذاؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے نظام ہاضمہ کی درستگی اور بھوک بڑھانے کے لیے ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جب کہ کینسر کے مریض اگراس کے پتوں سے تیارکردہ پانی کے روزانہ تین کپ پیئیں تو انسانی مزاحمتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

ہلدی کا استعمال: ہلدی کا استعمال اکثر کھانوں میں کیا جاتا ہے جب کہ اس میں موجود کرکمین میں اینٹی آکسی ڈینڈ اور تیزابیت کے خاتمے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ کینسر کے خلاف لڑنے کی بھی اس میں صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس سے تیار کردہ اشیا پر کینسر کے خلاف لڑنے کی صلاحیت پر تحقیق کی جارہی ہیں جس میں پروسٹیٹ، چھاتی اور جلد کا کینسر شامل ہیں۔

لال مرچیں: لال مرچ میں کیسیسین نامی اہم مرکب پایا جاتا ہے جو کسی بھی تکلیف میں فوری آرام دیتا ہے جب کہ اس کے لگانے سے جلد سے کیمیکل پی خارج ہوتا ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے رفتہ رفتہ درد سے مکمل آرام آجاتا ہے۔ اس سے بنی کریم نیوروپیتھک کی بیماری کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے جب کہ کینسر کے مریض کے علاج کے دوران اس کے استعمال سے قوت مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔

لہسن کا استعمال: لہسن کو ایلیم کلاس میں رکھا جاتا ہے جس میں بڑی مقدار میں سلفر، فلیوونائڈز، سیلینیم اور آجینین پایا جاتا ہے جو کئی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لہسن کا مسلسل استعمال پیٹ، کولون، ایسو فیگس،لبلہ اور سینے کے کینسر کے خدشے کو کم کردیتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لہسن مختلف میکنیزم جیسے بیکٹیریل انفکیشن اور کینسر کا باعث بننے والے اجزا سے جسم کے اندرونی نظام کی حفاظت کرتا ہے۔

پودینہ کا استعمال: کئی صدیوں سے لوگ اس کا استعمال نظام ہاضمہ کی بہتری اور گیس کی بیماریوں سے نجات کے لیے کرتے رہے ہیں جب کہ یہ فوڈ پوائزنگ اور باول سنڈروم میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔ پیٹ کے کینسر میں مبتلا مریض کے روزانہ ایک کپ اس کو پکا کر پینے سے مزاحمتی قوت بڑھ جاتی ہے اس کے علاوہ گلے خراش اور منہ کے درد میں بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

News Code 1863280

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 3 =