مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ متفقہ فریم ورک کی تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کے بعد جنگ بندی اور مذاکرات اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ پر ایران کا تاریخی عدم اعتماد اس لیے ہے کہ واشنگٹن ماضی میں بارہا مختلف معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔
قالیباف کے مطابق امریکی صدر نے بھی واضح کیا تھا کہ ایران کا پیش کردہ دس نکاتی منصوبہ مذاکرات کے لیے عملی بنیاد اور بنیادی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے تین نکات کی خلاف ورزی ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی خلاف ورزی لبنان میں جنگ بندی سے متعلق شق کی ہے، جس کے مطابق فوری طور پر ہر جگہ، بشمول لبنان، جنگ بندی ہونی تھی۔
دوسری خلاف ورزی ایران کی فضائی حدود میں ایک جارحانہ ڈرون کی دراندازی ہے جسے صوبہ فارس کے شہر لار میں مار گرایا گیا، جو ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنے کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تیسری خلاف ورزی ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے انکار کی صورت میں سامنے آئی، جو مجوزہ فریم ورک کی چھٹی شق میں شامل تھا۔
قالیباف نے کہا کہ جب مذاکرات کی بنیاد ہی آغاز سے پہلے واضح طور پر توڑ دی جائے تو ایسی صورتحال میں جنگ بندی یا دو طرفہ مذاکرات کو معقول قرار نہیں دیا جاسکتا۔
آپ کا تبصرہ