مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب نے میزائل اور ڈرون حملے میں امریکی فضائیہ کا جدید E‑3 آواکس طیارہ مکمل طور پر تباہ کردیا ہے، جسے جدید جنگ میں اہم کمانڈ اور نگرانی کا نظام سمجھا جاتا تھا۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں ہے کہ سعودی عرب کے الخرج فوجی اڈے پر کیے گئے مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے میں امریکی فضائیہ کا ایک E‑3 آواکس طیارہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی سے قبل اسی اڈے پر موجود امریکی ایندھن بردار طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

سپاہ پاسداران کے مطابق فضائیہ کے میزائل اور ڈرون یونٹ نے مشترکہ آپریشن کے دوران کم از کم ایک E‑3 آواکس طیارہ سو فیصد تباہ کردیا جبکہ قریبی موجود دیگر طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق جس طیارے کو نشانہ بنایا گیا اسے امریکی فضائیہ اور اس کے اتحادیوں کے اہم ترین اسٹریٹجک اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ Boeing E‑3 Sentry آواکس طیارہ جدید جنگی حکمت عملی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک نگرانی کا نظام نہیں بلکہ میدان جنگ میں فضائی آپریشنز کے لیے کمانڈ اور کنٹرول کا مرکزی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔
یہ طیارہ طاقتور ریڈار نظام کے ذریعے جنگی میدان کی مکمل تصویر فراہم کرتا ہے اور فضائی کارروائیوں کے دوران لڑاکا طیاروں کو اہداف کی طرف رہنمائی بھی کرتا ہے۔
آواکس E‑3 ایک وقت میں 300 سے زیادہ اہداف کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جنگی طیاروں کی رہنمائی، ہدف کی تقسیم (ٹارگٹ ایلوکیشن) اور دشمن طیاروں کی روک تھام (انٹرسیپٹ کنٹرول) جیسے اہم فرائض انجام دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2026 میں اس طیارے کی قیمت تقریباً 530 سے 600 ملین ڈالر فی طیارہ بتائی جاتی ہے، جس کے باعث اسے امریکی فضائی طاقت کے اہم ترین اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ