مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عرب اور علاقائی میڈیا میں ایران میں حالیہ دہشت گردی اور امریکی-صہیونی دشمنوں کے سازشوں پر شدید تشویش پائی جارہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سعودی روزنامہ الشرق الاوسط نے ایک مضمون میں ایران میں دہشت گردی اور بدامنی کے خطرات اور خطے پر ممکنہ نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں اسلامی نظام کے خلاف کسی قسم کی سازش کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر ایسے اقدامات کیے گئے تو صورتحال مزید خطرناک ہوسکتی ہے۔
روزنامہ نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کو ایران میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کے نظام کے لیے کوئی متبادل تلاش کیا جائے یا بیرون ملک سے کوئی نیا نظام نافذ کیا جائے، کیونکہ ایسے اقدامات داخلی اعتماد کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
الشرق الاوسط نے بیرونی مداخلتوں کو مسئلہ حل نہ کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنیادی حکمت عملی ایران کے نظام کو گرانا ہو تو یہ مداخلتیں کسی بھی صورت مسئلے کو حل نہیں کرسکتیں۔ بحران کے حل کے لیے عقلانیت، حقیقت پسندانہ اور کم نقصان دہ راستہ اپنانا ضروری ہے۔
مضمون میں مزید کہا گیا کہ نہ امریکہ اور نہ ہی نیٹو اس صورتحال کو کنٹرول یا منظم کرسکیں گے، جیسا کہ لیبیا کے تجربے میں دیکھا گیا کہ ملک کو بحران میں چھوڑ دیا گیا۔
آخر میں الشرق الاوسط نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتائج خطے کے لیے تباہ کن ہوں گے اور پورا خطہ وسیع انتشار میں مبتلا ہوجائے گا۔
آپ کا تبصرہ