مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی جارحیت کے نتیجے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران صہیونیوں کو شدید نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں، جبکہ طوفان الاقصی 2023 سے جاری مسلسل جنگی بحران نے بھی مقبوضہ فلسطین کے اندر معاشرتی استحکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہی حالات کے سبب صہیونی معاشرہ تیزی سے انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کی طرف بڑھ رہا ہے اور صہیونیوں کی بڑی تعداد مقبوضہ سرزمین چھوڑنے پر مجبور دکھائی دے رہی ہے۔
اسی تناظر میں صہیونی اخبار زیمان یسرائیل نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ صرف فوجی طاقت کسی قوم کو بچانے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ اسرائیلی معاشرہ اندرونی طور پر بکھر رہا ہے اور اس کے اثرات ہجرت کے بڑھتے رجحان کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
بینک اسرائیل نے 23 مارچ 2026 کو جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2024 اور 2025 کے دوران ان صہیونیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا جو مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر دوسرے ممالک منتقل ہوئے۔ اس عرصے میں اسرائیل کی جانب ہجرت کے مقابلے میں باہر جانے والوں کی تعداد زیادہ رہی، جس کے نتیجے میں ہجرت کا توازن منفی ہوگیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ الٹی ہجرت کی اوسط سالانہ 20 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، حالانکہ 2016 سے 2019 کے درمیان یہی تعداد عام طور پر اسرائیل کی جانب ہجرت کی اوسط کے طور پر بیان کی جاتی تھی۔
صہیونی اخبار دمارکر نے گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 30 سے 44 سال کی عمر کے افراد میں مقبوضہ فلسطین چھوڑنے والوں کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مجموعی آبادی میں یہ تناسب 18 فیصد بتایا گیا، جو پہلے ہی غیر معمولی حد تک بلند سمجھا جا رہا ہے۔
بینک اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ہجرت کا یہ منفی توازن صرف جنگ کے اثرات کا نتیجہ ہے یا یہ رجحان مستقبل میں بھی مسلسل بڑھتا رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگی دباؤ اور عدم تحفظ کی فضا برقرار رہی تو مقبوضہ فلسطین میں آبادی کا بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، جو غاصب صہیونی حکومت کے لیے ایک گہرا داخلی چیلنج بن سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ