سعودی عرب کی مسلمانوں اور فلسطینیوں کے ساتھ  آشکاراخیانت / اسرائیلیوں کے ساتھ آشکارا ہمدردی اور یکجہتی

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے اسرائیلیوں اور صہیونیوں کے ساتھ آشکارا گہری دوستی ، یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرکے سعودی عرب کا چھپا ہوا مکروہ چہرہ عالم اسلام کے سامنے نمایاں کردیا ہے سعودی عرب کی فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس کے بارے میں آشکارا خیانت کا سلسلہ طشت از بام ہوگيا ہے سعودی عرب یہودی بستیوں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر فنڈ بھی فراہم کررہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے اسرائیلیوں اور صہیونیوں کے ساتھ آشکارا گہری دوستی اور ہمدردی کا اظہار کرکے سعودی عرب کا چھپا ہوا مکروہ چہرہ عالم اسلام کے سامنے نمایاں کردیا ہے سعودی عرب کی فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس کے بارے میں آشکارا خیانت کا سلسلہ طشت از بام ہوگيا ہے سعودی عرب یہودی بستیوں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر فنڈ بھی فراہم کررہا ہے۔

سعودی عرب کے امریکہ نواز ولیعہد محمد بن سلمان امریکی میگزین دی اٹلانٹک کے ساتھ  گفتگو کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے بہت سےمفادات مشترکہ ہیں اسرائيلیوں کو بھی مقبوضہ فلسطین میں رہنے کا حق حاصل ہے۔ سعودی عرب کے ولیعہد نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مفادات مشترکہ ہیں ۔ اور دونوں ممالک کے اعلی حکام ایکد وسرے کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔ عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد اس سے قبل اس بات کا بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ سعودی عرب نے امریکہ کے کہنے پر وہابی دہشت گرد نظریہ کو دنیا میں پھیلایا ہے اور سعودی عرب اب امریکہ کے کہنے پر وہابی دہشت گرد نظریہ اور وہابی علماء کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہے محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب نے ہزاروں وہابی مدارس تاسیس  کئۓ ہیں جو امریکی اور اسرائیلی مفادات کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مشغول اور مصروف ہیں۔ عرب ذرائع کے مطابق دینا بھر میں جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ان سب کا تعلق سعودی عرب کے وہابی نظریہ سے ہے اور سعودی عرب وہابی دہشت گرد تنظیموں کو بڑے پیمانے پر فنڈ فراہم کررہا ہے ان تنظیموں میں القاعدہ، طالبان، داعش ، بوکوحرام، الشباب، النصرہ فرنٹ اور دیگر تنظمیمیں شمال ہیں۔

سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر کو بھی اپنا قریبی اور گہرا دوست قراردیتے ہوئے کہا کہ جیراڈ کوشنر کے کہنے پر سعودی عرب میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا ہے جسے امریکی حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ محمد بن سلمان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی ٹرمپ کے یہودی داماد  کوشنر کے ساتھ گہری اور بے مثال دوستی ہے اور یہ دوستی شراکت دار ہونے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے  امریکی صدر مائیک پنس اور دیگر وائٹ ہاؤس حکام کے ساتھ بھی گہرے روابط ہیں۔ واضح رہے کہ  مسلم اور عرب ذرائع اس سے قبل بار بار کہتے رہے ہیں کہ امریکہ آل سعود کے ذریعہ سعودی عرب پر  حکومت کررہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے وہابی اسلام کو امریکی اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے سعودی عرب میں حقیقی اسلام نہیں بلکہ امریکی اور اسرائيلی اسلام ہے جس کے سائے میں امریکہ سعودی عرب کی دولت اور ثروت کو لوٹ رہا ہے اگر سعودی عرب میں حقیقی اسلام آجائے تو امریکہ کو تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں ملے گا، یہی وجہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب میں ایسے اسلام کی حمایت کررہا ہے جو خطے میں امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عرب ذرائع کے مطابق مسلمانوں کو ایسے حالات میں سعودی عرب کی طرف سے امریکہ کے ساتھ ملکر  اسلام اور مسلمانوں کے خلاف  ہونے والی سازشوں کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ سعودی عرب پر مسلط حکمراں اس دور کے ابو جہل ، ابولہب اور یزید ہیں جو حرمین الشریفین کی ردا اوڑھ کر حرمین الشریفین کے ساتھ کھلی دشمنی اور عداوت کررہے ہیں۔

News Code 1879813

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =