4 مئی، 2026، 1:11 PM

امریکی فوج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئی تو فوری جوابی کارروائی کی جائے گی، ایرانی فوج کا انتباہ

امریکی فوج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئی تو فوری جوابی کارروائی کی جائے گی، ایرانی فوج کا انتباہ

خاتم الانبیاء(ص) سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکی فوج کی جانب سے کسی پیش قدمی کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خاتم الانبیاء(ص) سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی طاقت بالخصوص امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے دندان شکن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران متعدد بار واضح کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مکمل طور پر اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج کے اختیار میں ہے اور ہر قسم کی محفوظ آمد و رفت صرف ایرانی مسلح افواج کی ہم آہنگی کے ساتھ انجام پاتی ہے۔

انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام اور افواج کچھ عرصے سے بین الاقوامی اور آزاد سمندری علاقوں میں ڈاکہ زنی کے اقدامات میں مصروف ہیں اور عالمی تجارت اور معیشت کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج ہر قسم کی دھمکی یا جارحیت کا سخت اور پشیمان کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

ایرانی کمانڈر نے مزید کہا کہ ایران پوری قوت کے ساتھ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو برقرار رکھے گا اور اس علاقے کو مضبوط انداز میں کنٹرول اور منظم کرے گا۔ انہوں نے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو خبردار کیا کہ وہ ایرانی مسلح افواج کے ساتھ رابطہ اور اجازت کے بغیر آمد و رفت سے گریز کریں تاکہ ان کی سلامتی خطرے میں نہ پڑے۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران واضح طور پر انتباہ کرتا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی طاقت خصوصا امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا اس کے قریب آنے کی کوشش کی تو اسے براہ راست جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے امریکہ کے حامیوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں جو ناقابل تلافی نقصان اور شدید پشیمانی کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ امریکی جارحانہ حرکتوں کا نتیجہ خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے اور اس آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔

News ID 1939125

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha