2 اپریل، 2026، 12:18 PM

ٹرمپ کی دھمکیاں ناکام، مقبوضہ فلسطین میں صہیونی تنصیبات پر ایران کے تابڑ توڑ حملے

ٹرمپ کی دھمکیاں ناکام، مقبوضہ فلسطین میں صہیونی تنصیبات پر ایران کے تابڑ توڑ حملے

ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت دھمکیوں کے باوجود ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں قابض صہیونیوں پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ رمضان 34ویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے تل ابیب پر میزائل بارش کردی ہے جس کے بعد امریکی کانگریس میں جنگ کے حامی بھی ماننے لگے کہ عسکری آپشن ناکام ہوچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی و صہیونی جارحیت کے جواب میں کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ دشمن اس خام خیالی میں تھا کہ چند ہی دنوں میں اسلامی جمہوری ایران کو جھکا دے گا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یہ محض ایک خواب تھا۔

ذرائع کے مطابق ایرانی مسلح افواج ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی حکمت عملی اور بھرپور قوت کے ساتھ دشمن پر ضربیں لگا رہی ہیں اور امریکی-صہیونی اتحاد کو واضح پیغام دے رہی ہیں کہ ایران نہ دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی جنگی دھمکیوں سے مرعوب ہوگا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ فلسطین کے خلاف نئی میزائل کارروائیاں انجام دیں، جس کے تحت گزشتہ دو گھنٹوں کے دوران چار بار میزائل حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں تل ابیب اور اس کے اطراف میں کم از کم 11 مقامات کو نقصان پہنچا، جبکہ مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجتے رہے اور صہیونی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

دوسری جانب ایران کا دفاعی نظام بھی پوری شدت کے ساتھ فعال اور روزانہ بڑی تعداد میں دشمن کے ڈرون تباہ کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک امریکی و صہیونی دشمن کے 150 ڈرون مار گرائے جاچکے ہیں۔

ادھر اسٹریٹجک محاذ پر بھی ایران کی برتری واضح ہوتی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کے عملیاتی کنٹرول میں ہے اور مغربی جہازوں کی آمد و رفت تقریباً صفر تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ خطے میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈے حالیہ حملوں کے بعد عملی طور پر غیر فعال ہوچکے ہیں۔

اسی تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر سے اوپر برقرار ہیں، جس نے مغربی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور امریکہ و یورپ کے لیے ایک بڑا اقتصادی خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ امریکی کانگریس میں جنگ کے سخت ترین حامی بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عسکری آپشن بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اب جنگ کے خاتمے کے لیے واحد راستہ یہی رہ گیا ہے کہ امریکہ ایران کی شرائط تسلیم کرے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں اور جنگی بڑھکیں بے اثر ہو چکی ہیں اور امریکہ ایک بندگلی میں پھنس چکا ہے۔

News ID 1938717

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha