جو بائیڈن ، رجب طیب اردوغان کے حامی اور طرفدار ہیں

مہر نیوز/4 اکتوبر/ 2014 ء :امریکہ کے نائب صدر جوبائیڈن کے ترجمان نے جوبائیڈن کے معافی مانگنے کےترکی صدر رجب طیب اردوغان کے مطالبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے حامی اور طرفدار ہیں اور انقرہ واشنگٹن کا اہم اتحادی ملک ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جوبائیڈن کے ترجمان نے جوبائیڈن کے معافی مانگنے کےترکی  صدر رجب طیب اردوغان کے مطالبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے حامی اور طرفدار ہیں اور انقرہ واشنگٹن کا اہم اتحادی ملک ہے۔

بائیڈن کے ترجمان نے کہا کہ ترکی امریکہ کا ایک اہم اتحادی ملک ہے اور امریکہ کے نائب صدر رجب طیب اردوغان کے حامی اور طرفدار ہیں اور دونوں رہنماؤں کے شخصی اور ذاتی روابط ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے دہشت گردی کے خلاف اہم تعاون جاری ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نےہاروارڈ یونیورسٹی میں سوالات کے جوابات میں  امریکہ کے اتحادی ممالک کی طرف سے داعش دہشت گردوں کے فروغ اور مدد میں اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش دہشت گردوں کو سعودی عرب ، قطر ، امارات اور ترکی نے حد سے زيادہ ہتھیار فراہم کئے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا کہ شام میں امریکہ کی اصلی مشکل اس کے یہی اتحادی  ترکی اور عرب ممالک  ہیں جنھوں نے دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی امریکی سفارشات پر عمل نہیں کیا۔ جوبائيڈن نے کہا کہ ترکی، سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات  نے دہشت گردوں کو وسیع پیمانے پر ہتھیار فراہم کئے ہیں۔ جو بائيڈن نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے خود مجھ سے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے میں زیادہ روی سے کام لیا ہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ ان ممالک کو دہشت گردوں کی حمایت روکنے کا پابند نہیں بنا سکا۔ جو بائيڈن نے کہا کہ امریکہ نے بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لئے درمیانہ قسم کے دہشت گردوں کی حمایت  کی لیکن امریکہ کے اتحادیوں نے القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کی حمایت شروع کردی جس کی بنا پر داعش دہشت گرد گروہ وجود میں آگیا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے اب انہی عرب ممالک اور ترکی کو داعش دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر مامور کیا ہے۔ لیکن مبصرین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اس اقدام کو بھی بہت بڑا فریب اور نیرنگ قراردے رہے ہیں۔

News Code 1841770

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 11 =