حکومت اور پارلیمنٹ کے مشترکہ تعاون سے مسائل حل ہو تے ہیں

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زراعت ، پانی اور قدرتی وسائل کمیشن کے سربراہ اور اراکین سے ملاقات میں زراعت کو غذائی سلامتی اور روزگار فراہم کرنے کے لحاظ سے ملک کے اہم مسائل میں شمار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے  زراعت ، پانی اور قدرتی وسائل کمیشن کے سربراہ اور اراکین سے ملاقات میں زراعت کو غذائی سلامتی اور روزگار فراہم کرنے کے لحاظ سے ملک کے پہلے درجہ کے مسائل میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: حکومت اور پارلیمنٹ کے باہمی تعاون سے زراعت کے شعبہ میں قانونی خلاء کو دور کرنے اور وسیع بنیادوں پر پروگرام مرتب کرنے کے ذریعہ زراعت میں اہم پیشرفت اور اس شعبہ میں موجود مشکلات برطرف ہوجائیں گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زراعت کے شعبہ سے متعلق قوانین کو وضع کرنے میں پارلیمنٹ کے اہم کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قانون اجراء اور نافذ ہونے کے لئے منظور کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے گوناگوں شرائط ، ملک کی ضروریات اور جامع و ہمہ جہت نگاہ کے پیش ںظر قانون کے نافذ ہونے کی راہیں پہلے سے آمادہ کرنی چاہییں ۔

رہبر  معظم انقلاب اسلامی نے زراعت  کے شعبہ میں اصولی اور مطلوبہ نقطہ تک پہنچنے کے لئے حکومت اور پارلمینٹ کے درمیان ہمدردانہ تعاون کو ضروری قراردیتے ہوئےفرمایا: بعض ادوار میں یہ غلط تصور پایا جاتا تھا کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کے الگ الگ اور چداگانہ راستے ہیں اور یہ دونوں قوا اپنے استقلال کو دوسرے کی نفی میں قراردیں حالانکہ حکومت اور پارلیمنٹ کے مشترکہ تعاون سے مسائل حل ہوتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: پارلیمنٹ میں جو قانون منظور ہوتے ہیں  یقینی طور پر انھیں رہبری کی حمایت حاصل ہے اور قانون پر عمل بھی لازمی اور ضروری ہے لیکن پارلیمنٹ کو قانون منظور کرتے وقت حکومت کی ضروریات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زرعی زمینوں کو یکساں بنانےاور جدید ترین وسائل و آلات کے ذریعہ اخراجات میں کمی کرنے اور علمی نظریے کے مطابق منصوبوں کو آگے بڑھانے پر تاکید کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سبسیڈی کو بامقصد بنانے اور زراعت کے شعبہ میں حکومت کے حمایتی پیکیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حق و انصاف کے ساتھ سبسیڈی کو بامقصد بنانے کا حکومتی اقدام، دلیرانہ اور شجاعانہ اقدام ہے اور بعض مشکلات کو بہانہ بنا اس اقدام کو کمزور اور کمرنگ نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زراعت، پانی اور قدرتی وسائل کمیشن کی کوششوں اور کمیشن کے اراکین کی علمی سطح اور تجربہ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: زراعت کمیشن کو زراعت کے مسائل میں ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے زراعت سے متعلق موضوعات کا سنجیدگی اور اہتمام کے ساتھ پیچھا کرنا چاہیے۔

اس ملاقات کے آغاز میں زراعت، پانی اور قدرتی وسائل کمیشن کے سربراہ  اور کمیشن کے در اراکین نے اپنے نظریات، مشکلات اور تجاویز کو پیش کیا۔

News Code 1297948

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 7 =