مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت کے بعد عالمی سطح پر امن و سلامتی کی صورتحال انتہائی نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ خطے کے حالات بدستور غیر یقینی، کشیدہ اور تشویشناک رخ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس دوران ایران کی جانب سے تابڑ توڑ اور مسلسل جوابی کارروائیوں نے امریکہ اور اسرائیل کو دفاعی و سیاسی محاذ پر سخت دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نہ صرف عسکری میدان میں کمزور دکھائی دے رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی انہیں سفارتی تنقید اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
عالمی امن کو بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر متعدد ممالک اور بین الاقوامی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک نے سفارتی سطح پر جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان ہی کوششوں کے تسلسل میں پاکستان اور چین کی جانب سے ایک پانچ نکاتی امن فارمولا پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ثالثی کے عمل میں سب سے اہم عنصر اعتماد سازی ہے۔ اس سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں کو سب سے پہلے جنگ کے فریقین میں سے ظالم اور مظلوم کی نشاندہی کرنا چاہئے۔ جارح اور متاثرہ فریق کو ایک ہی سطح پر رکھنا غیر جانبداری کی روح کے خلاف ہے۔
اگلے مرحلے میں ثالثی کرنے والے ممالک کو لازمی طور پر ظالم کی کھلی مذمت کرنی چاہیے اور مظلوم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے، تاکہ متاثرہ فریق کو یہ یقین ہوسکے کہ ثالثی کا مقصد صرف وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ انصاف کے قیام کے ساتھ مستقل امن کی بنیاد رکھنا ہے۔
حقیقی امن اسی وقت ممکن ہے جب ثالثی انصاف کے اصولوں پر قائم ہو اور اسے محض نمائشی یا سیاسی توازن برقرار رکھنے کی کوشش نہ بنایا جائے۔ اگر ثالثی کے عمل میں ابتدا ہی سے ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق کو نظرانداز کیا گیا تو مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ