مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک اطالوی خبررساں ایجنسی ای این ایس ای سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران یورینیم کو تقریبا فوجی سطح پر افزودہ کررہا ہے اور تیزی سے ایک جوہری طاقت بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ نئے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے قانونی امور کے مشیر کاظم غریب آبادی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ کسی تکنیکی ادارے کا سربراہ اپنے بیانات کو حقائق اور ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رپورٹوں پر مبنی رکھے۔ مفروضات اور خیالی بیانیوں کی بنیاد پر بیانات دینا ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داریوں کے خلاف ہے اور ایجنسی کے چارٹر کی روح سے متصادم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام تکنیکی ضروریات کے مطابق پیشرفت کررہا ہے اور مکمل طور پر ایجنسی کے سیف گارڈز کی نگرانی میں ہے۔ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو بین الاقوامی معاہدوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کے جانبدارانہ بیانات ان حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے۔
غریب آبادی نے کہا کہ ایران کے افزودگی پروگرام کے فوجی مقاصد نہیں ہیں۔ جہاں تک افزودگی کی سطح کا تعلق ہے، معاہدہ برائے عدم پھیلاؤ کے تحت افزودگی کی کوئی حد مقرر نہیں جب تک کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے ہو اور ایجنسی کی نگرانی میں ہو۔ ڈائریکٹر جنرل کے بیانات پرامن جوہری توانائی کے حق پر حملہ ہیں جس میں افزودگی کی سطح کے لئے مصنوعی حد مقرر کی گئی ہے۔